انتظامیہ سے عمارت تعمیر کرنے اور بچوں کے لئے کھیل کا میدان تعمیر کرنے کاوالدین کا مطالبہ
سری نگر//ترال کے آری پل تحصیل میں قائم گورنمنٹ ہائر سکندری سکول میں 15سال گزر جانے کے باوجودصرف8کمروں پر مشتمل ہے جن میں ایک کمرہ پرنسپل آفس کے طور استعمال کیا گیا ہے جبکہ دیگر 2کمروں میں کمپوٹر لیپ اور ایک میں لائبیری ہے۔جبکہ دیگر4کمروں میں420بچوں کو بٹھایا جا رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں زیر تعلیم طلباء کو طرح طرح کے پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے کشمیر نیوز سروس کو مقامی لوگوں نے بتایا کہ سرکار نے تحصیل آری پل کے دور دراز علاقوں کے سینکڑوں بچوں کو درپیش مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے سال2008ء میں ستورہ میں ایک گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول کا قیام عمل میں لایا گیا ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا ابتدائی طور پر ہائی سکول کو اپ گریڈ کیا گیا ہے اور اسی عمارت میںگیارویں اور بارویںجماعتوں کا باضابط طور آغاز کیا گیا ہے ۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان بچوں کو بھی تعلیم حاصل کرنے کا مقامی سطح پر موقع ملا ہے جو مختلف وجوہات کی بناء پر ترال قصبے میں اپنی تعلیم نہیں حاصل کر سکتے تھے ۔تاہم 15سال گزر جانے کے باجود محکمہ تعلیم کو یہاں ہائر سکنڈری سکول کے لئے الگ سے عمارت تعمیر کرنا یاد نہیں رہا ہے جس کی وجہ سے یہاں زیر تعلیم بچوں کو مجبورً چند کمروں میں سمٹنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے بتایا ابتدائی طور ہائی سکول کی عمارت کو استعمال کرنے سے کام چل سکتا تھا خیال رہے مزکورہ ہائر سکنڈری میں قیام کے بعد ہر سال بہتر نتائج درج ہوتے ہیں تاہم یہا ں تعلیمی میعارمیں بہتری کو دیکھ کر ہر سال بچوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ یہ عمارت ناکافی ہے ۔ادارے میں تعینات محکمے کے ذرائع نے بتایا کہ اس وقت یہاں ادارے میں4جماعتوں کے بچوں کی تعداد420ہے جو تیزی کے ساتھ بڑ رہا ہے جبکہ مارنگ اسمبلی یہاں چھوٹے صحن میں مکمل نہیں ہوتی ہے جس کی وجہ سے سب بچے یہاں شرکت نہیں کر سکتے ہیں ۔ادارے میں زیر تعلیم ایک طالب علم نے بتایا یہاں بہتر تعلیم ہے جس کی وجہ سے ہمارے گھر والوں نے یہاں داخل کیا ہے ۔تاہم انہوں نے بتایا کہ ادارے میں کھیل کود کے لئے بکل جگہ نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم کسی کھیل میں سکولی سطح پر شرکت نہیں کر سکتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ نئی عمارت کے لئے چند سال پہلے زمین کی نشان دہی بھی کی گئی ہے تاہم تا حال وہ نشان دہی تک ہی محدود رہا ہے ۔اگر ہائر سکنڈری سکول میں عملے کی بات کی جائے تو وہ بھی نہ ہونے کے برابر ہے ایک استاد نے بتایا یہاں آرٹس مضامین کے لئے صرف ایک پرمنٹ لکچرر(شعبہ سیاسیات)موجود ہے جبکہ باقی مضامین کو یہاں عام استاد پڑھاتے ہیں ۔مقامی لوگوں اور طلباء نے سرکاری اپیل کی ہے کہ ہائر سکنڈری ستورہ کے لئے نئی عمارت کے ساتھ ساتھ مکمل عملہ بھی تعینات کیا جائے ۔










