وارانسی/ایجنسیز//وارانسی میں واقع گیانواپی مسجد اور کاشی وشوناتھ مندر تنازع میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔۔ مسلم فریق نے سپریم کورٹ کی جانب سے تجویز کردہ مفاہمتی عمل اور ثالثی میں شرکت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی مرحلے پر اس عمل کا حصہ نہیں بنے گی اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی جنگ عدالت میں ہی جاری رکھے گی۔کمیٹی کے جوائنٹ سیکریٹری ایس ایم یاسین کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ لازمی یا پابند نہیں ہے۔ کمیٹی نے باہمی مشاورت کے بعد متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ وہ ثالثی کے عمل میں شریک نہیں ہوگی۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے ہندو اور مسلم دونوں فریقوں کو مشورہ دیا تھا کہ تنازع کا حل عدالتی فیصلے کے بجائے باہمی گفت و شنید، خصوصی لوک عدالت اور ثالثی کے ذریعے تلاش کیا جائے۔ اسی سلسلے میں وارانسی کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کمپلیکس میں قائم ثالثی مرکز میں 14 جولائی کو ابتدائی اجلاس مقرر کیا گیا تھا، جبکہ 21 سے 23 اگست تک خصوصی لوک عدالت منعقد کرنے کی بھی تجویز دی گئی تھی تاکہ دونوں فریق آمنے سامنے بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔تاہم مسلم فریق کے انکار کے بعد اس مفاہمتی عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ گیانواپی مسجد سے متعلق تمام مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور وہ صرف عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی اپنے موقف کا دفاع کرے گی۔اس وقت وارانسی کی مختلف عدالتوں میں گیانواپی مسجد، شرنگار گوری، آدی ویشیشور مندر اور قدیم جیوترلنگ سے متعلق 36 سے زائد مقدمات زیر سماعت ہیں، جبکہ بعض اہم معاملات ہائی کورٹ میں بھی زیر غور ہیں۔ ضلع جج کی عدالت میں شرنگار گوری کیس سمیت متعدد درخواستیں زیر التوا ہیں۔










