فائبر آپٹک ڈرونز اسرائیل کے لیے نیا خطرہ، دفاعی نظام کیلئے چیلنج

فائبر آپٹک ڈرونز اسرائیل کے لیے نیا خطرہ، دفاعی نظام کیلئے چیلنج

لندن/ایجنسیز// اسرائیل کو لبنان میں حزب اللہ کی جانب سے فائبر آپٹک ڈرونز کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ایک نئے اور انتہائی خطرناک جنگی چیلنج کا سامنا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ جدید ڈرونز روایتی فضائی دفاعی نظام اور الیکٹرانک جیمنگ ٹیکنالوجی کو بڑی حد تک غیر مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے باعث اسرائیلی فوج کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ کم لاگت، خاموشی سے پرواز کرنے والے اور انتہائی مشکل سے پکڑے جانے والے فائبر آپٹک ڈرونز پہلے یوکرین جنگ میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوئے، جہاں انہوں نے جدید جنگی حکمت عملی کو بدل کر رکھ دیا۔ اب یہی ٹیکنالوجی جنوبی لبنان سمیت دیگر محاذوں پر بھی تیزی سے استعمال ہو رہی ہے۔26 اپریل کو اسرائیلی فوج کو پہلی مرتبہ فائبر آپٹک ڈرون حملے میں جانی نقصان اٹھانا پڑا، جب جنوبی لبنان میں ایک فوجی چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ چھ زخمی ہوئے۔ بعد ازاں حزب اللہ نے اسی ڈرون سے ریکارڈ کی گئی حملے کی ویڈیو بھی جاری کی۔ اطلاعات کے مطابق مارچ میں لبنان میں دوبارہ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد اب تک ایسے حملوں میں کم ازکم ایک درجن اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ ڈرون روایتی فرسٹ پرسن ویو (ایف پی وی) ڈرونز سے مختلف ہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنے آپریٹر سے انتہائی باریک فائبر آپٹک کیبل کے ذریعے مسلسل منسلک رہتے ہیں۔ یہ کیبل پروازکے دوران پیچھے کھلتی رہتی ہے اور اسی کے ذریعہ کنٹرول سگنلز اور ہائی ڈیفینیشن ویڈیو منتقل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ریڈیو سگنلز پر انحصار نہیں کرنا پڑتا اور الیکٹرانک جیمنگ کے ذریعہ انہیں روکنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔کچھ فائبر آپٹک ڈرونز 50 کلومیٹر تک لمبی کیبل لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ انتہائی کم بلندی پر، تیز رفتاری اور تقریباً خاموشی سے پرواز کرتے ہیں، جس کے باعث انہیں بروقت تلاش کرنا، ٹریک کرنا یا مار گرانا نہایت دشوار ثابت ہو رہا ہے۔ یوکرین کے ادارے ڈیفنس ٹیک فار یوکرین کے صدر جوناتھن لیپرٹ کے مطابق میدان جنگ میں دشمن کے تقریباً 70 فیصد فرسٹ پرسن ویو ڈرون حملے اب فائبر آپٹک ڈرونزکے ذریعہ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مجموعی جانی نقصانات میں بھی ان کا حصہ نصف سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ان ڈرونزکے خلاف کوئی قابل اعتماد دفاعی نظام وسیع پیمانے پر موجود نہیں اور مؤثر تحفظ کا واحد طریقہ خود کو چھپا لینا ہے۔لیپرٹ کے مطابق فائبر آپٹک ڈرونز نے جدید جنگ کا نقشہ بدل دیا ہے۔ ریڈیو فریکوئنسی سے چلنے والے ڈرونز کے مقابلے میں ان کی آمد کا بروقت اندازہ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے، اسی لیے فوجیوں کو اکثر اچانک حملے کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ردعمل ظاہر کرنے کے لیے انتہائی کم وقت ملتا ہے۔رپورٹس کے مطابق یوکرین میں دونوں فریق اب ان ڈرونز کو گھات لگا کر حملے کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔