بہتر قیمتوں نے خسارہ پورا کیا،غیر متوقع موسم سے پیداوار میں 40 فیصد تک کمی
سرینگر//کشمیر میں اس سال چیری کی فصل اگرچہ غیر متوقع موسمی حالات کے باعث نمایاں طور پر متاثر ہوئی، تاہم منڈی میں بلند قیمتوں نے باغبانوں کو بڑی حد تک مالی نقصان سے بچا لیا۔ باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پیداوار میں 35 سے 40 فیصد کمی کے باوجود اس سیزن کے دوران چیری کی غیر معمولی قیمتوں نے کاشتکاروں کو گزشتہ برسوں کے مقابلے بہتر آمدنی فراہم کی۔یو این ایس کے مطابق کشمیر میں چیری کی فصل کا آغاز عموماً مئی کے آخری ہفتے میں ہوتا ہے اور جون کے اختتام تک اس کی برداشت مکمل ہو جاتی ہے۔ رواں سال پھول آنے اور پھل بننے کے مراحل کے دوران بے وقت بارشوں اور دیگر موسمی تغیرات نے وادی کے بیشتر چیری باغات کو متاثر کیا، جس سے پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔تاہم کم پیداوار کے باعث منڈی میں رسد گھٹ گئی جبکہ ملک بھر کی تھوک منڈیوں میں طلب برقرار رہی، جس کے نتیجے میں چیری کی قیمتیں کئی برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔باغبانوں کے مطابق اس سال اعلیٰ معیار کی چیری کی اقسام 250 سے 400 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہوئیں، جبکہ عام حالات میں یہی اقسام 150 سے 180 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہوتی تھیں۔اسی طرح روایتی اقسامڈبل اور مشری کی قیمت 170 سے 200 روپے فی کلوگرام رہی، جبکہ گزشتہ سال یہی اقسام 80 سے 100 روپے فی کلوگرام میں فروخت ہوئی تھیں۔ ابتدائی اقسام، جن میں سیا اور مخملی شامل ہیں، بھی 100 سے 200 روپے فی کلوگرام کے درمیان فروخت ہوئیں، جو گزشتہ سیزن کے مقابلے تقریباً 100 روپے فی کلوگرام زیادہ تھیں۔فروٹ منڈی شوپیان کے صدر محمد اشرف وانی نے بتایا کہ اس سال پیداوار میں نمایاں کمی ضرور ہوئی، لیکن پورے سیزن کے دوران مارکیٹ غیر معمولی طور پر مضبوط رہی، جس سے بلند قیمتوں نے پیداوار میں ہونے والے نقصان کی بڑی حد تک تلافی کر دی۔یو این ایس کے مطابق ان کے مطابق شوپیان، جو کشمیر کے اہم چیری پیدا کرنے والے اضلاع میں شمار ہوتا ہے، میں اس سال تقریباً 500 سے 600 میٹرک ٹن چیری کی پیداوار ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ سری نگر، گاندربل اور بارہمولہ سمیت مختلف اضلاع سے کم مقدار میں چیری منڈیوں تک پہنچنے کے باعث قیمتیں بلند رہیں، جبکہ ملک بھر کی تھوک منڈیوں میں مانگ مسلسل برقرار رہی۔یو این ایس کے مطابق وادی کے دیگر علاقوں کے باغبانوں نے بھی اسی رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ معیاری اور دیر سے پکنے والی اقسام کے لیے خریداروں کے درمیان سخت مقابلہ رہا، جس کے باعث پورے سیزن میں قیمتیں مستحکم اور بلند رہیں۔ماہرین کے مطابق حالیہ برسوں میں کشمیر کی باغبانی موسمیاتی تبدیلیوں سے مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔ پھول آنے اور پھل بننے کے دوران بے وقت بارشوں اور ڑالہ باری نے کئی باغات کی پیداوار کم کر دی، تاہم اس مرتبہ رسد میں کمی نے قیمتوں کو سہارا دیا، جس سے باغبانوں کو مالی فائدہ حاصل ہوا۔اعداد و شمار کے مطابق کشمیر بھارت کی مجموعی چیری پیداوار کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ پیدا کرتا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران وادی میں چیری کی کاشت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ باغبان روایتی باغات کے بجائے ہائی ڈینسٹی باغات اور اعلیٰ معیار کی اقسام کی طرف راغب ہوئے ہیں، جن کی مارکیٹ میں زیادہ قیمت ملتی ہے۔فی الوقت وادی کشمیر میں تقریباً 2,800 ہیکٹر رقبے پر چیری کی کاشت کی جاتی ہے، جہاں سے سالانہ 12 ہزار سے 13 ہزار میٹرک ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے۔یو این ایس کے مطابق ملکی منڈیوں کی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ برآمد کنندگان بھی کشمیری چیری کو بیرون ملک متعارف کرانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ گریڈنگ، جدید پیکنگ اور کولڈ چین انفراسٹرکچر میں بہتری کے باعث بیرونی منڈیوں تک رسائی کے امکانات بھی بڑھ رہے ہیں۔چیری کے تاجر اور باغبان بشارت احمد نے کہا کہ رواں سیزن نے ثابت کیا ہے کہ مقدار کے مقابلے میں معیاری پیداوار زیادہ منافع بخش ثابت ہوتی ہے، کیونکہ اعلیٰ اقسام کے باغبانوں کو سب سے بہتر قیمتیں حاصل ہوئیں۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس سال بلند نرخوں نے باغبانوں کو مالی ریلیف فراہم کیا، تاہم مستقبل میں چیری کی کاشت کو مزید منافع بخش اور پائیدار بنانے کے لیے موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی حکمت عملی، جدید کولڈ اسٹوریج سہولیات، بہتر سپلائی چین اور برآمدی انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانا ناگزیر ہوگا۔










