گڈول کوکرناگ ملی ٹنٹ مخالف آپریشن چوتھے دن میں داخل

ملوث ملی ٹنٹوں کو تلاش کرکے بے اثر کرنے کیلئے ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کا استعمال

اننت ناگ//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گھنے جنگلاتی علاقے گڈول کوکرناگ سے ملی ٹنٹوں کا صفایا کرنے کا آپریشن چوتھے دن میں داخل ہو گیا،اور سیکورٹی فورسز کے3افسروں اورایک اہلکارکی ہلاکت میں ملوث ملی ٹنٹوں کو تلاش کرنے اور انہیں بے اثر کرنے کیلئے ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کو استعمال کیا جارہاہے۔جے کے این ایس کے مطابق حکام نے ہفتہ کو بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے ڈرون اور ہیلی کاپٹروں کو پہاڑی علاقوں کا جائزہ لینے اور جنوبی کشمیر ضلع کے کوکرناگ علاقے میں گڈول کے جنگلات میں جنگجوؤں کے مقامات کا پتہ لگانے کیلئے تعینات کیا۔انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی حملہ ہفتہ کی صبح دوبارہ شروع کیا گیا تھا،یہاں سیکورٹی فورسز نے جنگل کی طرف کئی مارٹر گولے داغے۔ڈرون فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک جنگجو جمعہ کے روز سیکورٹی فورسز کی طرف سے فائر کیے گئے گولوں کی زد میں آنے کے بعد ایک غار نما ٹھکانے میںچھپنے کے لئے بھاگ رہا ہے۔ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کشمیر وجے کمار نے جمعہ کی رات دیر گئے کہا کہ آپریشن مخصوص ان پٹ کی بنیاد پر شروع کیا گیا اور اس عزم کااظہار کیا کہ پھنسے ہوئے دو سے تین دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا جائے گا۔بدھ کو ملی ٹنٹوں کے ساتھ تصادم میں میجر آشیش دھونچک،19 راشٹریہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر کرنل منپریت سنگھ، جموں و کشمیر پولیس کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ہمایوں بھٹ اور ایک سپاہی مارے گئے۔ اس دوران فوج کی شمالی کمان کے کمانڈر نے ہفتہ کو اننت ناگ میں ملی ٹنٹ مخالف آپریشن کے مقام پر آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا۔دفاعی ذرائع نے بتایاکہ شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اوپیندر دویدی نے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں 4 دنوں سے جاری گولی باری کے مقام کے قریب آپریشنل صورتحال کا جائزہ لیا۔آرمی کمانڈر کو گراؤنڈ کمانڈرز نے انتہائی شدت کے آپریشنز کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں نگرانی اور فائر پاور کی فراہمی کے لیے ہائی ٹیک آلات استعمال کیے جا رہے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ فورسز کی جانب سے استعمال کی جا رہی درستگی کے زیادہ اثرات بھی ہیں۔