گلشن کلچرل فورم کشمیر کے زیر اہتمام سمبل بدن میں یک روزہ ادبی کانفرنس منعقد

گلشن کلچرل فورم کشمیر کے زیر اہتمام سمبل بدن میں یک روزہ ادبی کانفرنس منعقد

محفل مقالہ ،محفل افسانہ اور محفل مشاعرہ کا انعقاد ،سرکردہ شاعروں وادیبوں نے شرکت کی

سرینگر / / گلشن کلچرل فورم کشمیر کی جانب سے مورخہ 13نومبر 2021کو سمن بل بدرن میں یک روزہ ادبی کانفرنس منعقد ہو ئی۔کشمیر پریس سروس کو میڈیا سیکریٹری ادریس بدرنی کے موصولہ بیان کے مطابق کانفرنس تین نشستوں پر مشتمل رہی جس میں کشمیری زبان سے وابستہ متعددسرکردہ ادیبوں شاعروں اور قلمکاروں نے شرکت کی۔ محفل مقالہ ، محفل افسانہ اور محفل مشاعرہ کانفرنس کی نمایاں نشستیں رہیں۔ اِس موقعہ پر پروفیسر گلشن مجید مہمان خصوصی کی حیثیت سے موجود رہے۔ پروفیسر بشر بشیر اور شمشاد کرالہ واری نے بالترتیب نشستوں کی صدارت کی۔ فورم کے صدر سید بشیر کوثر نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ جبکہ فورم کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔کانفرنس میں شہناز رشید ، ڈاکٹر جاوید انور، شمشاد کرالہ واری اور پروفیسر بشر بشیر نے کشمیر کے ادبی صورتحال کے تناظر میں منعقدہ مباحثے میں شرکت کی۔ رحیم رہبر اور پروفیسر گلشن مجید اور نثار عظم نے افسانے پیش کئے جن پر سیر حاصل بحث ہوئی۔اس موقعہ پر غلام حسن شائق کی نثری تصنیف متاعِ حسَن، پروفیسر گلشن مجید کا افسانوی مجموعہ ٹنگہ ڈولمْت بَر اور گلشن بدرنی کا شعری مجموعہ زونہ گاشس منز اِجرا کی گئی۔خورشید خاموش ، ڈاکٹر جاوید انوَر اور سید بشیر کوثر نے اِجرا شْدہ کتابوں پر تبصْرے پیش کئے۔ کانفرنس کے دوران گلشن کلچرل فورم کے سالانہ ایواڈوں کا اعلان بھی کیا گیا۔ اعلان میں کہا گیا کہ سال 2020 کا ایواڈ شہناز رشید اور سال 2021کا ایواڈ پروفیسر گلشن مجید کو ایک علاحدہ تقریب میں دیئے جائیں گے۔کانفرنس کے آٓخر پر ایک پْر وقار مْشاعرہ بھی منعقد ہوا۔ جس کی نظامت نثار عظم نے کی ۔صدارت کے فرائض شہناز رشید نے انجام دئے جبکہ صدارتی ایوان میں شیخ غلام رسول بھی موجود تھے۔ اِس پْر کشش مْشاعرے میں جو شعرا کرام شریک ہوئے اْن میں لطیف نیازی، مقبول شیدا، شہزاد منظور، عبدالرشید شہباز، عطیق اللہ عطیق، خورشید خاموش، آصف سافل، سید بشیر کوثر، غلام حسن شایق اورگلشن بدرنی شامل تھے۔دریں اثنا فورم کے جنرل سیکریٹری گلشن بدرنی نے فورم کی کارکردگی کا تذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کووِڈ کے باعث اگر چہ فورم کی کارکردگی متاثر رہی تاہم فورم نے اشاعتی پروگراموں اور لازمی سرگرمیوں کو جاری رکھنے میں کوئی کمی باقی نہ رکھی۔