گتے کے ڈبوں اورکیڑے مارادویات پر 18فیصد جی ایس ٹی

سری نگر//حکومت جموں وکشمیر کی مختلف اسکیموں اوراقدامات کے باوجود کشمیرکی میوہ صنعت سے جڑے لوگ بشمول مالکان باغات،میوہ بیوپاری اوردیگر طبقے مایوسی کے شکار ہیں ،کیونکہ گتے کے ڈبوں اورکیڑے مارادویات پر 18فیصد جی ایس ٹی کیساتھ ساتھ بنگلہ دیش حکومت کی جانب سے امریکن سیب پر درآمدی فیس یعنیImport-Dutyمیں اضافہ کیاگیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق کشمیری فروٹ گروورس کی مختلف تنظیموں نے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیکر کشمیری میوہ صنعت کوخسارے سے بچانے کی اپیل کی جبکہ کشمیرفروٹ گروئورس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن ایپل ٹائون سوپور نے تینوں معاملات مرکزی سرکارکی نوٹس میں لانے کیلئے مرکزی وزیرزراعت نریندرسنگھ تومر سے نئی دہلی جاکر ملاقات کرنے کافیصلہ لیاہے ۔مذکورہ ایسوسی ایشن کے صدر فیاض احمد ملک عرف کاکہ جی نے فون پر بتایاکہ کشمیر سے بنگلہ دیش بھیجے جانے والے امریکن سیب پر وہاں(بنگلہ دیش) کی حکومت نے درآمدی فیس یاImport-Dutyمیں امسال کافی اضافہ کیاہے ۔انہوںنے کہاکہ گزشتہ برس بنگلہ دیش کی حکومت نے کشمیری امریکن سیب فی کلوپر40روپے50پیسے کادرآمدی فیس رکھاتھا لیکن امسال فی کلوامریکن سیب پر55روپے Import-Duty رکھی گئی ہے ۔فیاض ملک عرف کاکہ جی کاکہناتھاکہ 12تا14ٹائر والے کشمیری امریکن سیب سے لدے ٹرکوں پر بنگلہ دیش کی حکومت 13سے14لاکھ روپے فی ٹرک بطور درآمدی فیس یعنیImport-Dutyوصول کرتی ہے ۔انہوںنے ساتھ ہی کہاکہ کشمیری فروٹ گروورس اورڈیلرس کو گتے کے ڈبوں اورکیڑے مارادویات پر 18فیصد جی ایس ٹی کا بوجھ بھی برداشت کرنا پڑرہاہے ۔ کشمیرفروٹ گروئورس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن ایپل ٹائون سوپور کے صدر نے کہاکہ ہم نے یہ سبھی مسائل اورمشکلات یہاں حکومت اورانتظامیہ کے ذمہ داروںکی نوٹس میں کئی بار لائے لیکن ہمیں ابتک کوئی راحت یارعایت نہیں ملی ۔فیاض ملک عرف کاکہ جی کاکہناتھاکہ اب کشمیرفروٹ گروئورس اینڈ ڈیلرس ایسوسی ایشن ایپل ٹائون سوپور نے تینوں معاملات مرکزی سرکارکی نوٹس میں لانے کیلئے مرکزی وزیرزراعت نریندرسنگھ تومر سے نئی دہلی جاکر ملاقات کرنے کافیصلہ لیاہے۔اس دوران کشمیر ویلی فروٹ گروورس اینڈ ڈیلرز یونین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گتے کے کارٹنوں کو جی ایس ٹی نظام سے مستثنیٰ قرار دیا جائے۔مذکورہ یونین نے اس حوالے سے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کوگزشتہ ماہ ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے ،جس میں یونین نے کشمیری میوہ کاشتکاروں اوربیوپاریوںکودرپیش مشکلات بیان کئے ہیں ۔پھلوں کے کاشتکاروں کے مطابق، ایپل، بگوشا اور ناشپاتی کو اکثر لکڑی کے ڈبوں میں پیک کیا جاتا تھا تاکہ جموں و کشمیر سے باہر ان کی متعلقہ منزلوں پر محفوظ آمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ پھلوں کے کاشتکاروں کے پاس اب وادی سے پھلوں کو جموں و کشمیر سے باہر لے جانے کیلئے گتے کے ڈبوں کو متبادل پیکنگ مواد کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ پاپلر ٹری (سفیدہ) کی لکڑی فی الحال صرف پلائیووڈ کی چادریں بنانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اور یہ مہنگی ہے۔کشمیر ویلی فروٹ گروورس اینڈ ڈیلرز یونین کامانناہے کہ چونکہ گتے کے ڈبوں پر اب18 فیصد جی ایس ٹی عائد ہے اور پھل کاشتکاروں کی اکثریت چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے، اسلئے وہ ابھی گتے کے ڈبوں کو پیکنگ میٹریل کے طور پر استعمال کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے، اور اس کے نتیجے میں، وہ سخت مشکلات کا شکار ہیں اور انہیں کافی نقصان اٹھانے کا خدشہ ہے۔ پھل کے کاشتکاروں اوربیوپاریوںکی یونین نے بھیجے گئے خط میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے گزارش کی ہے کہ گتے کے ڈبوں پر 18فیصد جی ایس ٹی چھوٹ پر غور کرنے کیلئے متعلقہ مرکزی حکومت کے حکام کے ساتھ معاملہ اٹھائیں تاکہ وادی کے چھوٹے کاشتکار راحت کی سانس لے سکیں اور کسی بھی مشکلات سے بچ سکیں۔کشمیر ویلی فروٹ گروورس اینڈڈیلرز یونین کے مطابق کھادوں اور کیڑے مار ادویات پرGST کی وصولی نے فارم کے ان ضروری اجزاء کی قیمتوں میں15 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ یونین نے کیڑے مار ادویات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ اس کا براہ راست اثر کاشتکاروں پر پڑ رہا ہے، کیونکہ کیڑے مار ادویات، فنگسائڈز، کیڑے مار ادویات اور ٹری اسپرے آئل کی قیمتوں میں 15 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے23 جون2022 کو زرعی کیمیکلز کی صنعت کو یقین دلایا تھاکہ وہ کیڑے مار ادویات پر جی ایس ٹی کو18 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی صنعت کی مانگ کو وزیر خزانہ کے ساتھ اٹھائیں گے۔FICCIکے زیر اہتمام ’’11ویں ایگرو کیمیکلز کانفرنس2022‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے، موصوف مرکزی وزیر نے کہا تھاکہ ’’میں وزیر خزانہ سے ملاقات کروں گا اور آپ کے مطالبے سے آگاہ کروں گا۔‘‘