باپ اور2بیٹے مجرم قرار ،7سال قید بامشقت کی سزا،ایک لاکھ روپے جرمانہ
کولگام //جنوبی ضلع کولگام کی ایک عدالت نے ایک مجرمانہ قتل کیس میں ایک شخص اوراُسکے2بیٹوں کو 7سال کی قیدبامشقت کی سزا سنائی۔جے کے این ایس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کولگام پرویز اقبال نے مجرموں محمد امین بٹ اوراُسکے 2بیٹوں رؤف احمد بٹ اور یونس احمد بٹ پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔جج نے اپنے حکم میں کہا کہ اگر وہ جرمانے کی رقم جمع کرانے میں ناکام رہتے ہیں تو انہیں مزید 6 ماہ کی سخت قید بھگتنا ہوگی۔ تاہم، انہوں نے کہاکہ مقدمے کی سماعت کے دوران ملزم کی حراست کی مدت پر غور کیا جائے گا۔کیس کے مطابق یہ تینوں باپ بیٹے9 ستمبر 2016 کو ضلع کولگام کے کیلم دیوسر علاقے میں متاثرہ بشیر احمد پرے کے ساتھ جھگڑے میں ملوث تھے جس کی وجہ سے بشیراحمد کی سری نگر کے ایک اسپتال میں موت واقعہ ہوگئی۔جج نے تینوں کو مجرمانہ قتل کا مجرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی مقتول کیساتھ کوئی سابقہ دشمنی نہیں تھی۔جج نے کہا کہ ملزمان نے اس بنیاد پر نرمی کا مظاہرہ کرنے کی دعا کی ہے کہ یہ سب ایک ہی خاندان سے ہیں اور جیل میں قید ہونے کی وجہ سے اُنہیں اور ان کے خاندان کو بہت زیادہ تکلیف ہوئی ہے۔ملزمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان میں سے 2 طالب علم تھے اور جیل کی سزا کے نتیجے میں ان کا پورا کیریئر ناقابل تلافی تباہ ہو گیا ہے۔تاہم استغاثہ نے نرمی کی درخواست پر سخت اعتراض کیا۔ایڈیشنل پبلک پراسیکیوٹر ضیاء الرحمان خان کی سربراہی میں استغاثہ نے کہا کہ ایسے شواہد کا سامنا کرنے پر ملزم کو قانون کی انتہائی سزا سے بچنے کی اجازت دینا انصاف کا مذاق اڑایا جائے گا۔ ضیاء الرحمان خان نے مزید کہا کہ عام آدمی کا عدالتوں پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ مناسب سزا سنانا ہر عدالت کا فرض ہے اور بے جا ہمدردی نظام انصاف کو مزید نقصان پہنچائے گی۔فیصلے میں عدالت نے مزید کہاکہ یہ غیرارادی قتل کی واردات لگتی ہے ،کیونکہ ملزمان اورمقتول کے درمیان کوئی پرانی دشمنی نہیں تھی ،اورنہ کسی پرانی دشمنی کے کوئی شواہد ملے ہیں۔عدالت نے مزید کہاکہ ملزمان کی جانب سے مقتول کو قتل کرنے کاکوئی مقصد نہیں تھا،اورایسا لگتاہے کہ واقعہ اچانک اُسوقت پیش آیا،جب ملزمان اورمقتول کے درمیان جھگڑا اورہاتھا پائی ہوئی ۔










