meat in kashmir

کشمیر میں گوشت کی مانگ کافی زیادہ اضافہ ، ماہ رمضان میں 252کروڑ روپے کی خریداری

ماہ رمضان میں 1400سے زیادہ ٹر بھیڑ بکریوں کی ٹرکیں گوشت کی صورت میں صارفین میں فروخت / مٹن ڈیلرس ایسوسی ایشن

سرینگر // قیمتوں میں اتار چڑھائو کی شکایات کے بیچ وادی کشمیر میں گوشت کی مانگ کافی زیادہ بڑھ رہی ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں 1400سے زیادہ ٹر کیں بھیڑ بکریوں کی کشمیر پہنچ گئی جن کا بعد میں گوشت فروخت کیا گیا ۔ اسی دوران مٹن ڈیلران کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر بھیڑ بکریوں سے بھری 30سے 35ٹرک وادی پہنچ جاتی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق وادی کشمیر کے بازاروں میں جہاں ماہ رمضان کے مقدس ماہ میں گوشت کی قیمتوں کو لیکر صارفین آئے روز شکایات کرتے ہیں وہیں اس بات کا انکشاف ہو گیا ہے کہ اس رمضان المبارک میںابھی تک 1400بھیڑ بکریوں سے بھری ٹرکیں کشمیر پہنچ گئی جن کو بعد میں گوشت کی صورت میں صارفین کو فروخت کیا گیا ۔ معلوم ہو اہے کہ مٹن گوشت کے نرخوں میں اتار چڑھاؤ کے درمیان، وادی میں مٹن کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ اب تک رمضان کے مقدس مہینے میں 1400سے زیادہ ٹرک بھیڑ بکریوں کا استعمال کیا گیا ہے۔مٹن ڈیلرسایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے ایک خبر رساں ادارے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا’’ماہ رمضان کے 27 دنوں میں بھیڑوں سے لدے تقریباً 30سے 35ٹرک روزانہ بنیادوں پر کشمیر پہنچ جاتی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں مٹن کی کوئی کمی نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر موسم کی موجودہ صورتحال کے درمیان شاہراہ کو گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے بند کیا جائے تو مٹن کی قلت ممکن ہو گی۔ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نے مزید بتایا کہ رمضان کے آغاز سے اب تک بھیڑوں سے لدے کل 1400ٹرک کشمیر پہنچے ہیں جو کشمیر میں گوشت کی صورت میں فروخت ہو ئی ۔ ادھر صارفین شکایت کرتے رہتے ہیں کہ مٹن فی کلو 700یا 650روپے فی فروخت ہو رہا ہے، اور زمین پر کوئی مناسب جانچ نہیں کی گئی ہے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ مٹن ڈیلروں اور قصابوں کو عوام کو لوٹنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ چند ماہ قبل متعلقہ حکام نے مٹن ڈیلرس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی مہم شروع کی تھی لیکن سب بے سود کیونکہ اس اقدام کا صارفین کے لیے کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔