کشمیر اور باقی ملک کے لیے الگ معیار کیوں؟

کشمیر اور باقی ملک کے لیے الگ معیار کیوں؟

جنتا منتر کے طلبہ سے ہمدردی، کشمیر کے نوجوانوں پر کریک// وحید پرہ

سرینگر// پی ڈی پی کے رکن اسمبلی اور نوجوان رہنما وہید الرحمن پرا نے وادی کشمیر میں حالیہ سیکورٹی کریک ڈاؤن پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس پر “دوہرے معیار” اختیار کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے جنتا منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مفاہمت اور ہمدردی کا رویہ اپنایا جا رہا ہے، جبکہ کشمیر کے نوجوانوں کو اسی رویے سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق وحید پرہ پرا سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران مبینہ طور پر تقریباً ڈھائی ہزار کشمیری نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے، جبکہ مختلف اطلاعات کے مطابق یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ملک کے دیگر حصوں میں نوجوانوں کے ساتھ مفاہمت کا راستہ درست سمجھا جاتا ہے تو کشمیر میں یہی طریقہ اختیار کرنے سے گریز کیوں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، “جب پورا ملک حکومت ہند کے اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہا ہے کہ دیگر ریاستوں میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مقدمات واپس لیے جا رہے ہیں، تو پھر کشمیر کے نوجوانوں کو اسی ہمدردی اور رعایت سے کیوں محروم رکھا جا رہا ہے؟پرہ نے مزید کہا کہ اگر باقی ملک کے نوجوانوں کے لیے مفاہمت اور اعتماد سازی کو درست راستہ سمجھا جاتا ہے تو کشمیر کے نوجوانوں کے لیے اس پالیسی کو غلط قرار دینا ایک متضاد رویہ ہے، جس سے وادی کے نوجوانوں میں احساسِ محرومی مزید بڑھ سکتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر اور باقی ملک کے لیے مختلف معیار اپنانا ایک خطرناک پیغام دیتا ہے اور اس سے نوجوانوں میں بیگانگی کے احساس میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو طویل مدتی امن اور استحکام کے لیے سودمند نہیں ہوگا۔