الطاف بخاری کی محبوبہ مفتی پر شدید تنقید،کہاسابق وزیر اعلیٰ وضاحت دیں
سرینگر//اپنی پارٹی کے صدر سید محمد الطاف بخاری نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کے حالیہ بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری مظاہرین کو عسکریت پسند قرار دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا بیان نہ صرف حقیقت کے منافی ہے بلکہ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ محبوبہ مفتی آج بھی وہی طرز فکر رکھتی ہیں جو ان کے دورِ حکومت میں نظر آتی تھی۔یو این ایس کے مطابق ایک سخت لہجے میں جاری بیان میں الطاف بخاری نے کہا کہ انہیں محبوبہ مفتی کے حالیہ ویڈیو بیان پر نہ حیرت ہوئی اور نہ ہی تعجب، کیونکہ ان کے بقول یہ بیان ان کے ماضی کے طرز سیاست سے پوری طرح مطابقت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا، “آخر یہ وہی رہنما ہیں جنہوں نے کشمیری بچوں کی ہلاکتوں پر یہ سوال اٹھایا تھا کہ ‘کیا وہ دودھ اور ٹافی لینے باہر نکلے تھے؟’ ایسے بیانات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں محفوظ ہیں۔اپنی پارٹی کے سربراہ نے الزام عائد کیا کہ محبوبہ مفتی کی قیادت والی حکومت کے دوران احتجاجی مظاہروں میں پیلٹ گنوں کا استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں سینکڑوں نوجوان بینائی سے محروم ہوئے یا انہیں زندگی بھر کے لیے شدید جسمانی نقصان اٹھانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام اپنے ساتھ پیش آنے والے ان واقعات کو نہیں بھولے ہیں۔ ان کے مطابق متعدد نوجوان لڑکے اور لڑکیاں پیلٹ گنوں کی وجہ سے بینائی کھو بیٹھے یا مستقل معذوری کا شکار ہوئے، اور ان تلخ یادوں کو سیاسی بیانات یا منتخب بیانیے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔الطاف بخاری نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے حالیہ ریمارکس نے ایک بار پھر ان کے دور اقتدار کی سخت گیر پالیسیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق اب مختلف سیاسی حالات کے مطابق مؤقف تبدیل کرنا عوام کے لیے کوئی نئی بات نہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے محبوبہ مفتی پر موقع پرستانہ سیاست کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پہلے وہ کانگریس کی قیادت کو خوش کرنے کے لیے جنتا منتر گئیں اور اب کشمیری مظاہرین کو عسکریت پسند قرار دے کر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت کو خوش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے بقول یہی موقع پرستانہ سیاست کی اصل تصویر ہے۔اپنی پارٹی کے صدر نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ سابق ریاست میں بی جے پی کو اقتدار میں لانے میں کس کا کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام یہ بھی جانتے ہیں کہ نوجوانوں کی ہلاکتوں اور پیلٹ گنوں کے استعمال کا دفاع کس نے کیا، اس لیے تاریخ کو نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔الطاف بخاری نے پی ڈی پی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ محبوبہ مفتی کے بیان پر اپنا مؤقف واضح کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی قیادت میں ضمیر باقی ہے تو اسے صاف لفظوں میں بتانا چاہیے کہ آیا وہ کشمیری مظاہرین کو عسکریت پسند قرار دینے والے بیان کی حمایت کرتی ہے یا اس سے اختلاف رکھتی ہے۔ ان کے مطابق کم از کم پارٹی اپنے وقار، ساکھ اور ان عوام کے سامنے جواب دہ ہے جن کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے۔واضح رہے کہ الطاف بخاری کا یہ ردعمل محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے جنتا منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے تناظر میں کہا تھا کہ کشمیر میں ایسے مناظر برسوں سے دیکھے جا رہے ہیں، تاہم وہاں عسکریت پسندی موجود ہے، اس لیے وہاں کی صورتحال مختلف ہے، جبکہ جنتا منتر پر نہ تو عسکریت پسند ہیں اور نہ ہی ایسا ماحول۔ ان کے اسی بیان پر مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔










