نیشنل براڈ بینڈ مشن کی عمل آوری میں تیزی لانے پر زور
سری نگر//چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے جموں و کشمیر میں نیشنل براڈ بینڈ مشن کی عمل آوری کوتیز کرنے کے لئے آج سول سیکرٹریٹ سری نگر میں ساتویں سٹیٹ براڈ بینڈ کمیٹی (ایس بی سی) میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات سمیت کمیٹی ممبران ، کمشنر سیکرٹری محکمہ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی ،کمشنر سیکرٹری مکانات و شہری ترقی محکمہ، سیکرٹری پبلک ورکس (آر اینڈبی) ڈیپارٹمنٹ،ممبر کنوینر، ایڈیشنل ڈِی جی ٹی جموں و کشمیر ،ایل ایس اے، ڈی او ٹی، جموں،سی جی ایم،بھارت سنچار نگم لمیٹڈجموں و کشمیر، سیلولر آپریٹرز ایسوسی ایشن آف اِنڈیا (سی او اے آئی) اور ڈیجیٹل اِنفراسٹرکچر پرووائیڈرز ایسوسی ایشن (ڈِی آئی پی اے) کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِس کے علاوہ پرنسپل سیکرٹری پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری دیہی ترقی و پنچایت راج جموں، سانبہ ، اودھمپور، سری نگر، شوپیاں اور بارہمولہ کے ضلع ترقیاتی کمشنروں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔میٹنگ میں چھٹی ایس بی سی میٹنگ کے فیصلوں پر عمل درآمد، بی ایس این ایل کے ذریعے جاری 4 جی سیچوریشن پروجیکٹ، رائٹ آف وے (آر او ڈبلیو)، 5G عمل آوری کا منصوبہ،کال بیفور یو ڈِگ (سی بی یو ڈِی)، بھارت نیٹ/ترمیم شدہ بھارت نیٹ پروجیکٹ اور دیگر مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اَتل ڈولو نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں نیشنل براڈبینڈ مشن کی عمل آوری کی رفتار کو تیز کرنے پر زور دیا۔ اۃنہوں نے کہا کہ نمایاں پیش رفت حاصل کی گئی ہے اور اَفسران کو ہدایت دی کہ محکموں اور ایجنسیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی پیدا کریں تاکہ رُکاوٹوں کو جلد از جلد دور کر کے اہداف حاصل کئے جا سکیں۔
چیف سیکرٹری نے ضلع ترقیاتی کمشنروںکو ہدایت دی کہ وہ سی بی یو ڈِی کے لئے ڈِی ایل ٹی سی میٹنگ منعقد کریں اور ضلعی سطح پر ٹاوروں کی تعمیر کے لئے سائٹ الاٹمنٹ کے مسائل کو حل کریں۔اُنہوںنے موبائل ٹاوروں کو بجلی کنکشن فراہم کرنے کا جائزہ لیتے ہوئے متعلقہ اِداروں کو زمین پر اصل صورتحال کی عکاسی کرنے اور پورے ڈیٹا کو اَپ ڈیٹ کرنے کی ہدایت دی۔دریں اثنا، چیف سیکرٹری نے آر او ڈبلیو کی درخواستوں کی صورتحال کا جائزہ لیا جن میں منظور شدہ، مسترد، واپس لیا گیا، زیر عمل اور زِیر اِلتوأ مقدمات شامل ہیں۔اُنہوں نے مستقبل میں سی بی یو ڈی کو گتی شکتی پورٹل کے ساتھ ضم کرنے کی ہدایت دی تاکہ مجموعی پیش رفت اور فاسٹ ٹریکنگ ایپلی کیشنز کے مینجمنٹ کو یقینی بنایا جاسکے۔










