چیف سیکرٹری نے جموںوکشمیرمیں ’ایز آف لیونگ‘ کیلئے حکومتی عمل کو مزید آسان بنانے پر زور دیا

سری نگر// چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی جس میں سابق آئی اے ایس آفیسر پی ڈبلیو سی ڈیودار نے بھی شرکت کی۔میٹنگ میں مختلف محکموں میں سرکاری طریقۂ کار کو آسان بنانے کے لئے ایک جامع روڈ میپ پر غوروخوض کیا گیا تاکہ شہریوں کے لئے ’ ایز آف لیونگ ‘ کو یقینی بنایا جا سکے اور یونین ٹیریٹری میں زیادہ مؤثر، شفاف اور ٹیکنالوجی پر مبنی طرزِ حکمرانی قائم کی جا سکے۔میٹنگ میں عوامی خدمات کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اِس مقصد کے لئے غیر ضروری دفتری پیچیدگیوں اور ضابطہ جاتی تقاضوں کو ختم کرنے، سرکاری طریقۂ کار کی ازسرِ نو تشکیل اور خدمات کو شہریوں، کاروباری اِداروں اور سرکاری محکموں کے لئے زیادہ تیز، آسان اور قابلِ رسائی بنانے پر زور دیا گیا۔تامل ناڈو حکومت کے ’سمپل گَو ‘اقدام کے مشیر پی ڈبلیو سی ڈیودار نے تامل ناڈو میں حکمرانی کو آسان بنانے کے کامیاب ماڈل پر تفصیلی پرزنٹیشن دی۔ اُنہوں نے بتایا کہ ریاست میں اِنتظامی اِصلاحات اور ڈیجیٹل تبدیلی کے ذریعے سرکاری عمل کو کس طرح مؤثر اور آسان بنایا گیا۔ڈیودار نے اَپنی پرزنٹیشن کے دوران کہا کہ آسان بنانے کی مشق میں عوامی خدمات کے تینوں زمروں کو شامل کیا جانا چاہئے جن میں گورنمنٹ ٹو سٹیزن (جی ٹو سی)، گورنمنٹ ٹو بزنس (جی ٹو بی) اور گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ (جی ٹو جی) شامل ہیں جس کا بنیادی مقصد تعمیل کے بوجھ کو کم کرنا ہے جبکہ خدمات کی کارکردگی اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔اُنہوں نے ان غیر ضروری طریقہ کار کے تقاضوں کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جیسے سرٹیفکیٹس اور دستاویزات کی فزیکل جمع کروانا، متعدد نو آبجیکشن سرٹیفکیٹس (این او سیز)، لائسنس، اِجازت ناموں اور دیگر بار بار دہرائے جانے والے ضابطے ختم کئے جائیں کیوں کہ یہ شہریوں اور کاروباری اِداروں کے لئے تاخیر اور مشکلات کا سبب بنتے ہیں۔ڈیودار نے کئی نظامی چیلنجوں کی نشاندہی بھی کی جن پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان میں درخواست دہندگان کی لازمی جسمانی تصدیق، اہلیت کے معیار کا واضح طور پر متعین نہ ہونا، ضرورت سے زیادہ دستاویزات کا مطالبہ، اَدائیگی کے روایتی طریقے، مختلف اِنتظامی سطحوں پر بار بار تصدیق، ڈیجیٹل تصدیقی طریقۂ کار اَپنانے میں ہچکچاہٹ، سرکاری ڈیٹا بیسز کے درمیان مناسب انضمام نہ ہونا اور پرانے سرکاری ریکارڈ تک رسائی میں دشواریاں شامل ہیں۔اُنہوں نے اِصلاحات کے روڈ میپ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ اِنتظامی عمل کا جامع جائزہ لے کر اسے شہری دوست طرزِ حکمرانی کے مطابق ازسرِ نو ترتیب دینا ضروری ہے۔ اس روڈ میپ کے تحت دفتر پر مبنی طریقۂ کار سے نتائج پر مبنی حکمرانی کی جانب پیش رفت اور عوامی خدمات کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن کو یقینی بنایا جائے گا۔میٹنگ کو جانکاری دی گئی کہ جموں و کشمیر میں’ سمپل گَو‘ اقدام کی عمل آوری کی نگرانی کے لئے ایک مضبوط، کثیر سطحی مانیٹرنگ فریم ورک قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت اِبتدائی مرحلے میں اِصلاحاتی تجاویز کا جائزہ لینے کے لئے ایک سکریننگ کمیٹی جبکہ مجموعی پالیسی رہنمائی، پیش رفت کی نگرانی اور بروقت عمل درآمد کے لئے چیف سیکرٹری کی سربراہی میں ایک بااِختیار کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔سرکاری عمل کو آسان بنانے کے حوالے سے یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ درخواست دہندگان کی شناخت ایک معیاری تصدیقی نظام کے ذریعے کی جائے جبکہ اہلیت کے معیار کو واضح اور نتائج پر مبنی بنایا جائے۔ مزید تجویز کیا گیا کہ تمام منظوریوں اور سرکاری احکامات کو معیاری آن لائن فارمیٹ میں کیو آر کوڈ کے ساتھ جاری کیا جائے تاکہ ان کی فوری تصدیق ممکن ہو سکے۔میٹنگ میں اِصلاحات کو اِدارہ جاتی بنانے کے لئے ضروری قانونی فریم ورک پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ تمام آسان طریقۂ کار کو قانونی حیثیت، یکسانیت اور عمل درآمد میں آسانی کو یقینی بنانے کے لئے متعلقہ ایکٹ، قواعد، حکومتی احکامات اور مطلع شدہ رہنما خطوط کی حمایت حاصل ہونی چاہیے۔روایتی جسمانی تصدیق کے متبادل کے طور پر ای۔کے وائی سی ، ڈیجیٹل دستخط، الیکٹرانک ویری فکیشن کوڈ (اِی وِی سی)، ای۔سائن ، ڈیجی لاکر اور دیگر قومی سطح پر تسلیم شدہ ڈیجیٹل تصدیقی پلیٹ فارموں کے وسیع اِستعمال کی بھی سفارش کی گئی تاکہ محفوظ اور بلا رُکاوٹ خدمات فراہم کی جا سکیں۔مزید یہ تجویز کیا گیا کہ حکومت تمام محکموں پر یکساں طور پر لاگو ہونے والا ایک جامع اومنی بس آرڈر جاری کرے جس میں اِصلاحات کے مقاصد، عمل آوری کا فریم ورک، ٹائم لائنز اور متعلقہ محکموں کی ذِمہ داریاں واضح طور پر درج ہوں۔چیف سیکرٹری اَتل ڈولو نے میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں بڑے پیمانے پر اِنتظامی اصلاحات عملانے کے لئے ضروری اِنتظامی صلاحیت، اِدارہ جاتی فریم ورک اور سیاسی عزم موجود ہے۔اُنہوں نے کہا کہ تقریباً 1,500 سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل پہلے ہی مکمل کیا جا چکا ہے جو اِنتظامی اِصلاحات کے اگلے مرحلے کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔اَتل ڈولو نے مزید کہا کہ مجوزہ کثیر سطحی نگرانی کا نظام مختلف محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ، جوابدہی اور اصلاحات کے بروقت نفاذ کو یقینی بنائے گا۔اُنہوں نے کامیاب ماڈلز سے سیکھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے تجویز پیش کی کہ جموں و کشمیر کے افسران کا ایک وفد چنئی کا مطالعاتی دورہ کرے تاکہ تامل ناڈو کے’ سمپل گَو ماڈل‘ کا عملی مشاہدہ کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے بہترین طریقۂ کار سے آگاہی حاصل ہوگی اور جموں و کشمیر میں آسان ، زیادہ شفاف اور شہری دوست طرزِ حکمرانی کی حکمت عملی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے گا۔چیف سیکرٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ’ سمپل گَو‘ کی عمل آوری ٹیم کثیر شعبہ جاتی ہونی چاہیے جس میں اِنفارمیشن ٹیکنالوجی اور قانون کے ماہرین بھی شامل ہوں تاکہ اِنتظامی اِصلاحات کے تکنیکی اور قانونی دونوں پہلوؤں کو مناسب طریقے سے حل کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ اِس طرح کا مربوط طریقہ اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کرے گا کہ آسان طریقہ کار قانونی طور پر مضبوط، تکنیکی طور پر درست اور صارف دوست رہیں۔اُنہوں نے حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جموں و کشمیر میں ایک ایسا نظامِ حکمرانی قائم کیا جائے گا جو مؤثر، شفاف، ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور عوامی ضروریات پر مبنی ہو۔ اُنہوں نے تمام محکموں پر زور دیا کہ وہ قریبی تال میل کے ساتھ کام کرین اور شناخت شدہ اِصلاحات کو مقررہ وقت میں مکمل کریں تاکہ آسان طرزِ حکمرانی کے فوائد یونین ٹیریٹری کے ہر شہری تک پہنچ سکیں۔دورانِ میٹنگ اِنفارمیشن ٹیکنالوجی، خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، صحت و طبی تعلیم، منصوبہ بندی، ترقی و نگرانی اور مکانات و شہری ترقی محکموں کے اِنتظامی سیکرٹریوں اور سینئر اَفسران نے اَپنے اَپنے محکموں میں خدمات کو آسان بنانے کے حوالے سے اَب تک کی پیش رفت کو پیش کیا۔ اُنہوں نے پہلے سے کی گئی اِصلاحات، عمل درآمد کے دوران درپیش چیلنجوںاور ترجیحی بنیادوں پر مزید آسان بنائی جانے والی خدمات کے بارے میں بھی تفصیلات فراہم کیں۔