کولگام//چیف جسٹس جموںوکشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس علی محمد ماگر ے نے آ ج ڈسٹرکٹ کورٹ کولگام کا دورہ کیا اور زیر تعمیر نئے ڈسٹرکٹ کورٹ کمپلیکس کا معائینہ اور جائزہ لیا۔چیف جسٹس علی محمد ماگرے نے تعمیراتی عمل او رمنصوبے کی بروقت تکمیل کے حوالے سے موقعہ ہی کچھ ہدایات جاری کیں۔چیف جسٹس نے اے ڈی آر کولگام میں لیگل ایڈ ڈ یفنس کونسل سسٹم ( ایل اے ڈی سی ایس) سینٹر کا بھی اِفتتاح کیا۔اُنہوں نے ایل اے ڈی سی ایس کے قیام کے مقصد کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جدید نظام سے جہاں تک فوجداری معاملات کا تعلق ہے پیشہ ورانہ اَنداز میں قانونی اِمداد ی نظام کے اِنتظام اور عمل آوری میں مدد ملے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ نظام تمام اہل اَفراد کو مجرمانہ معاملات میں معیاری اور بروقت قانونی خدمات فراہم کرے گا۔چیف جسٹس، جسٹس علی محمد ماگر ے نے ہائیر سکینڈری سکول منز گام کا بھی دورہ کیا جس کے وہ طالب علم تھے۔اُنہوں نے وہاں کے طلباء کے ساتھ اَپنی طالب علمی کی زندگی کے دوران سکول میں اَپنے تجربات اور یاد گار لمحات کے حوالے سے خصوصی بات چیت کی ۔ سکولی حکام نے چیف جسٹس کو مبارک باد پیش کی اور ان کی کامیابیوں کو سراہا۔اُنہوں نے طلباء پر زور دیا کہ وہ زندگی میں اَپنے مقررہ اہداف کے حصول کے لئے سخت محنت کریں۔اُنہوں نے کہا ،’’ ہر طالب علم کے پاس منفرد صلاحیت،کامیابی کی بلندیوں تک پہنچنے اور اَپنے خوابوں کو حاصل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ سکول کچھ بد ل گیا ہے لیکن سکول کے ساتھ ان کے پرانی یادوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔اِدارے کے اساتذہ اور طلبانے چیف جسٹس کے سکول آنے پر ان کا شکریہ اَدا کیا ۔اُنہوں نے اسے ان کے لئے تحریک اور رہنمائی کا ذریعہ قرار دیا۔اِس موقعہ ڈی ایل ایس اے نے ایک میگا لیگل سروسز کیمپ کا اِنعقاد کیا جس میں ایچ ایس ایس منز گام کے طلباء کی طرف سے منشیات کی بدعت پر ایک سکٹ پیش کیا گیا۔کیمپ کا دورہ کئی مدعیان نے بھی کیا جنہوں نے وہاں لگائے بیداری کے مختلف سٹالوں سے فائدہ اُٹھایا۔جسٹس علی محمد ماگر نے ضلعی عدلیہ کولگام کے کام کاج کا بھی جائزہ لیا او روکلأ بالخصوص نوجوان وکلا پر زور دیا کہ وہ عدالتوں میں مقدامات دائر کرنے میں دستیاب نئی ٹیکنالوجیوں اور دستیاب ورچیول طریقوں سے بھرپور فائدہ اُٹھاتے ہوئے اَپنی صلاحیتوں کا بہترین اِستعمال کریں۔اُنہوں نے ضلع کے جوڈیشل اَفسران اور بار ایسو سی ایشن کولگام کے ممبران سے بھی تبادلہ خیال کیا۔چیف جسٹس نے ان سے اَپنے اَپنے مسائل اور تحفظات پر تفصیلی گفتگو کی ۔اُنہوں نے بار ممبران کو یقین دِلایا کہ ان کی تمام شکایات کا جلد اَز جلد جائزہ لیا جائے گا اور ان کا ازالہ کیا جائے گا۔چیف جسٹس نے کورٹ روموں ، اِی کورٹ روم ، جوڈیشل سٹاف روموں ، درخواست گزاروں ، وکلأ کے لئے دستیاب سہولیات اور کولگام میں کورٹ کمپلیکس کے مجموعی بنیادی ڈھانچے کا بھی معائینہ کیا۔اِس موقعہ پر پی ڈی جے کولگام طاہر خورشید رینہ ، رجسٹرار جوڈیشل سری نگر گوہر ماجد دلال، سی جے ایم کولگام منظور احمد زرگر، سیکرٹری ڈی ایل ایس اے مہرین مشتاق ، جوائنٹ رجسٹرار جوڈیشل سری نگر عبدالباری، ضلع کولگام کے دیگر جوڈیشل اَفسران ،ضلع ترقیاتی کمشنر کولگام ڈاکٹر بلال محی الدین بٹ،ناظم سکولی تعلیم ، ناظم سیاحت کشمیر ،ناظم باغبانی ، ناظم صحت ، ایس ایس پی کولگام ، ڈی ڈی سی ممبر کولگام ، جوائنٹ ڈائریکٹر ایجوکیشن ، سی اِی او کولگام ، بار صد ر ایسو سی ایشن کولگام ، بار صدر بار ایسو سی ایشن قاضی گنڈ ، بار صدر بار ایسو سی ایشن دمحال ہانجی پورہ کولگام، پرنسپل ایچ ایس ایس منز گام او رضلع اِنتظامیہ کے دیگر اعلیٰ اَفسران بھی موجود تھے۔










