جموں//چیف جسٹس جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ جسٹس تاشی ربستن نے جموں و کشمیر اور لداخ میں منشیات کی بدعت کے خلاف مشترکہ اور مربوط حکمت عملی اَپنانے پر زور دیا۔اِن باتوں کا اِظہار اُنہوں نے جموںوکشمیر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن جموں اور کرمنالوجسٹ سوسائٹی آف جے اینڈ کے کے اِشتراک سے وکلأ چیمبرز جموں میں ’’منشیات کا اِستعمال:نشہ، اثرات اور حل: نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت صلاحیت کی تعمیر کے لئے ایک اشارہ‘‘کے موضوع پر منعقدہ ایک سمینار میں بطورِمہمانِ خصوصی خطاب کر تے ہوئے کیا۔جسٹس سنجیو کمار نے اِس تقریب کی صدارت کی۔چیف جسٹس نے ایڈوکیٹ رامیشور جموال، بلبیر سنگھ منہاس اور ان کی ٹیم کو اس نیک کام کے لئے مُبارک باد دی۔اُنہوں نے اَپنے تجربات کا اِشتراک کرتے ہوئے کہا کہ ایس اے ایل ایس اے کے چیئرپرسن کی بحیثیت سے اَپنے دور میں وہ سکولوں اور کالجوں میں طلبأ کو تعلیمی پروگراموں جیسے نْکّڑ ناٹک، سٹیج ڈرامے اور وکلأ کے پینل کے ساتھ اِستفساری سیشنوں کے ذریعے بیداری پیدا کرتے تھے۔چیف جسٹس نے وکلأ کو معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے وکلأ برادری پر زور دیا کہ وہ منشیات کے خلاف جنگ میں اَپنا کردار اَدا کریں۔ اُنہوں نے مزید کہاکہ نئے فوجداری قوانین معاشرے میں عدم استحکام پیداکرنے میں بھی معاون ثابت ہوں گے۔اِس سمینارمیں پرنسپل ڈِسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جموں یش پال بورنی، رجسٹرار جوڈیشل سندیپ کور،چیف جسٹس کے پرنسپل سیکرٹری ایم کے شرما سمیت بڑی تعداد میںجوڈیشل اَفسران، پراسکیوشن اَفسران اور وکلأنے شرکت کی۔اِس کے علاوہ دونوں تنظیموں کے سرکردہ عہدیدار بشمول بلدیو سنگھ، پردیپ مجوترا، انشو مہاجن، راہل اگروال، اجے گندوترا، سندیپ سنگھ، آر ایس درسوال ، اَشونی کمار، راجیو کھجوریہ، امر ویر منہاس، ہیمنت اپل، دیپالی کپور، ادیپ بندرال، چندر دیو منہاس، امان شرما، ساکشم شرما، ہیتیش کول اور سشیل کمار بھی موجود تھے۔ایڈوائزر کرمنالوجسٹ سوسائٹی ایڈوکیٹ بلبیر سنگھ منہاس نے خطبہ اِستقبالیہ پیش کیاجبکہ شکریہ کی تحریک ایڈوکیٹ رنجیت سنگھ نے پیش کی۔صدر جے اینڈ کے ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جموںایڈوکیٹ نرمل کوتوال نے آئی پی سی کے مقابلے میں سخت سزا دینے کے علاوہ دہشت گردی اور علیحدگی پسندوں کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کے لئے خصوصی حوالہ کے ساتھ نئے فوجداری قوانین پر روشنی ڈالی۔
صدر کرمنالوجسٹ سوسائٹی رمیشور سنگھ جموال نے پاور پوائنٹ پرزنٹیشن کے ذریعے ایک تفصیلی کلیدی خطبہ دیاجس میں بتایا گیا کہ لوگ کس طرح مجرمانہ روئیے کو پروان چڑھاتے ہیں اور کس طرح عادی اَفراد کے بچے ا ن کے روئیے سے جینیااور ایپی جینیاتی طورپر متاثر ہوتے ہیں۔اُنہوں نے ڈِسٹرکٹ جیل جموں میں کرمنولاجسٹ سوسائٹی کے ذریعے متعارف کی گئی یوگا اور مراقبہ کی تکنیکوں کے 75 فیصد مثبت نتائج کا ذکر کیا ۔اُنہوں نے سینئر عدلیہ اور حکومت سے درخواست کی کہ وہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لئے نچلی سطح پر بھی تعاون فراہم کریں۔جسٹس سنجیو کمار نے اَپنے خطاب میں کہا کہ منشیات کے مسئلے میں دوبڑے فریق ہیں: ایک وہ جو اسے استعمال کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اسے اگاتے اور فروخت کرتے ہیں۔ اُنہوں نے متاثرہ اَفراد کے لئے کونسلنگ اور متبادل علاج کی وکالت کی جبکہ ملزمین کے لئے سخت سزا کی تجویز دی۔ اُنہوں نے کچھ غیر سرکاری تنظیموں اوربالخصوص کرمنولاجسٹ سوسائٹی کے کردار کو سراہتے ہوئے شہری سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ اِس کا مقابلہ کرنے کے لئے آگے آئیں۔










