جدید لیبارٹری کشمیر کی مشہور دستکاریوں کی تیز تر تصدیق ممکن بنارہی ہے
سری نگر//سری نگر میں کرافٹ ڈیولپمنٹ اِنسٹی چیوٹ (سی ڈِی آئی) کے تحت قائم پشمینہ ٹیسٹنگ اینڈ کوالٹی سرٹیفکیشن سینٹر (پی ٹی کیو سی سی) نے رواں مالی برس کے دوران ’جیوگرافیکل اِنڈکشن(جی آئی )‘ والی مصنوعات بالخصوص پشمینہ، کانی اور سوزنی کڑھائی والی شالوں کی ٹیسٹنگ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ اضافہ مضبوط اِدارہ جاتی صلاحیت میں بہتری،لیبارٹری کے بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن اور مستند جی آئی سرٹیفکیشن اور کیو آر کوڈِنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کی عکاسی کرتا ہے۔محکمہ ہینڈی کرافٹس و ہینڈ لوم کشمیر کے ترجمان نے آج یہاں جاری کردہ ایک تفصیلی پریس بیان میں بتایا کہ ٹیسٹنگ کی شرح جو 2024-25 ء میں یومیہ 40 سے 45 تھی، اَب 2026-27 ء میں بڑھ کر یومیہ 170 ہو گئی ہے۔اُنہوں نے وضاحت کی،پی ٹی کیو سی سی نے ’’2024-25 ء میں اوسطاً یومیہ 40 تا 45 ٹیسٹوں کے حساب سے 13,369 ٹیسٹ کئے۔سال 2025-26 ء میں یہ تعداد بڑھ کر 22,351 ٹیسٹ ہو گئی جس میں یومیہ اوسط 75 تا 85 ٹیسٹ تک پہنچ گئی۔ رواں مالی برس میں پی ٹی کیو سی سی اَب تک تقریباً 21,000 ٹیسٹ کر چکا ہے۔ نومبر 2026 ء سے 31 ؍مارچ 2027 ء کے درمیان مزید 21,000 ٹیسٹوں کی توقع کے ساتھ سالانہ مجموعی تعداد تقریباً 42,000 ٹیسٹ تک پہنچنے کا امکان ہے جو گزشتہ برس کی ٹیسٹنگ شرح سے تقریباً دوگنی ہے۔‘‘ترجمان نے مزید بتایا کہ پشمینہ لیبارٹری کو جدید آلات سے مضبوط کیا گیا ہے جن میں سکیننگ الیکٹران مائیکروسکوپ (ایس اِی ایم) اور دو ہائی ریزولوشن ڈیجیٹل مائیکروسکوپ شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا،’’محکمہ مالی برس 2026-27 ء کے دوران کیپکس کے تحت ایک اور او ایف ڈِی اے 2000 فائبر اینالائزر اور ایک اِضافی ڈیجیٹل مائیکروسکوپ کی خریداری کے عمل میں ہے۔ توقع ہے کہ ان اِضافے سے جانچ میں مزید تیزی آئے گی، فائبر کی شناخت اور معیار کی تشخیص میں درستگی میں بہتری آئے گی اور جی آئی ٹیسٹنگ اورکیو آر کوڈِنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کریں گے۔محکمہ نے پی ٹی کیو سی سی میں جی آئی ٹیسٹنگ، سرٹیفکیشن اور کیو آر کوڈِنگ میں زیادہ شفافیت لانے کے لئے آئی آئی سی ٹی اور کیو سی ڈی (کوالٹی کنٹرول ڈویژن) سمیت محکمے کی تمام ٹیسٹنگ لیبارٹریوں میں آپریشنز کو مزید ہموار کرنے کے لئے اندرونی آن لائن اپائنٹمنٹ ٹوکن مینجمنٹ سسٹم تیار کیا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا ،’’ویب ایپلی کیشن کو محکمہ کے ریسورس سیل نے تیار کیا ہے جو جلد ہی پائلٹ بنیادوں پر کام کرے گا۔‘‘ڈائریکٹوریٹ اِضافی اَفرادی قوت فراہم کرنے کے عمل میں ہے تاکہ مشینیں چلائی جاسکیں جس کے لئے تکنیکی عملہ تکنیکی تربیت کے لئے تھانے مہاراشٹر میںموجودوول ریسرچ ایسوسی ایشن (ڈبلیو آر اے) بھیجاجارہا ہے۔ ترجمان نے کہا،’’ہم تربیت یافتہ اَفرادی قوت کے ساتھ پی ٹی کیو سی سی میں ٹیسٹ کرنے کے لئے زیادہ ٹیمیں قائم کرسکیں گے تاکہ جی آئی تصدیق اور کیو آر کوڈِنگ کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کیا جاسکے جو جی آئی کے مجاز صارفین کی جانب سے متحرک میڈیا مہم کے بعد سامنے آئی ہے ۔ بڑھی ہوئی ٹیسٹنگ صلاحیت کشمیر کی قیمتی دستکاریوں کی تصدیق کو مضبوط کرتی ہے، کاریگروں اور بُنکروکے مفادات کی حفاظت کرتی ہے اور اصلی جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات میں صارفین اور خریداروں کا اعتماد بڑھاتی ہے۔‘‘ترجمان نے کہا کہ تیز تر اور زیادہ قابلِ اعتماد سرٹیفکیشن برآمدات اور اعلیٰ معیار کے مقامی مارکیٹوں کے لئے اہم ہے۔










