پی اے بی 2023-24 میں سماگرا شکشا کے تحت 1669 کروڑ روپے کی منصوبہ بندی کی تجویز کی گئی ۔ آلوک کمار

جموں //آج سماگرا شکشچا کے منصوبے کی منظوریوں کیلئے تشکیل کردہ پروجیکٹ اپروول بورڈ ( پی اے بی ) کی میٹنگ مرکزی سیکرٹری DoSEL ، ایم ای او ، GoI ( پی اے بی کے چئیر مین ) سنجے کمار کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ سال 2023-24 کی منصوبہ بندی کی منظوری کیلئے سماگرا شکشا کی میٹنگ ورچوئل موڈ کے ذریعے منعقد ہوئی اور اس میں پرنسپل سیکرٹری اسکول ایجوکیشن آلوک کمار ، DoSEL کی جوائینٹ سیکرٹریز مسز سریجا ( اقتصادی مشیر ) اور وپن کمار ( اکنامک ایڈوائیزر ) ، جموں و کشمیر انتظامیہ کے ڈائریکٹر فنانس مسٹر شوبیٹنڈ افسران جیسے کہ ڈائریکٹر ایس سی ای آر ٹی ، پراکشت منہاس ، پروجیکٹ ڈائریکٹر سماگرا شکشا دیپ راج ، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن جموں اشوک شرما ، ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن کشمیر تصدق حسین ، اسپیشل سیکرٹری کانتا دیوی ، جوائینٹ ڈائریکٹر پلاننگ پرشوتم کمار ، ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ بلال رشید ، سی اے او ، ایس ایم ایس ابھیشیک تلواریہ اور دیگر متعلقین نے شرکت کی ۔ پرنسپل سیکرٹری ایس ای ڈی جے اینڈ کے نے تمام شرکاء کا خیر مقدم کیا اور پروجیکٹ ڈائریکٹر دیپ راج نے گذشتہ سال کی مالیاتی پیش رفت پر تفصیلی پرذنٹیشن دی اور اس سال کیلئے تجاویز پیش کیں ۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پرنسپل سیکرٹری ایس ای ڈی آلوک کمار نے کہا کہ گذشتہ 2-3 برسوں میں یو ٹی میں بہتری آئی ہے اور سال 2023-24 کیلئے یہ سب سے بڑا بجٹ ہے جس کی پی اے بی میں 2018-19 سے مختلف مداخلتوں کی سفارش کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یو ٹی حکومت اور مرکزی حکومت ایک مضبوط تعلیمی نظام بنانے کیلئے تمام کوششیں کر رہی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ سکول ایجوکیشن ایکسی لینس ہب کا قیام اس سال 8.70 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات سے تعمیر کیا جائے گا جس میں ودیا سمیکشا کیندر ، انوویشن سینٹر اور آڈیٹوریم کے ساتھ سماگرا شکشا مداخلتوں کے نفاذ کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کیلئے مناسب انفراسٹرکچر کی دستیابی کے حوالے سے اسکولوں کی سنترپتی پر زوردیا گیا ہے تا کہ ہر طالب علم خود کو پرائیویٹ اسکولوں کے برابر محسوس کر سکے اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے سیکھنے کے نتائج کو بڑھانے پر طلباء اور بچوں کو بااختیار بنانے کیلئے زور دیا جائے ۔ اجلاس صدارت کے شکریہ کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ۔