پی ایچ سی چھانہ پورہ کو 24 گھنٹے فعال بنانے کامطالبہ

پی ایچ سی چھانہ پورہ کو 24 گھنٹے فعال بنانے کامطالبہ

سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دینے کیلئے عوام نے حکومت سے رجوع کیا

سرینگر// یو این ایس / چھانہ پورہ اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں نے پرائمری ہیلتھ سینٹر چھانہ پورہ کو 24 گھنٹے فعال مرکز صحت بنانے اور اسے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا مطالبہ ایک بار پھر زور دار انداز میں اٹھایا ہے۔مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ پی ایچ سی چنہ پورہ میں گزشتہ چھ ماہ سے ایکسرے کی سہولت بند پڑی ہے کیونکہ مرکز میں ایکسرے ٹیکنیشن موجود نہیں۔ ان کے مطابق کئی مرتبہ متعلقہ محکمہ کی توجہ اس مسئلے کی جانب مبذول کرائی گئی، تاہم اب تک ایکسرے یونٹ کو دوبارہ فعال نہیں کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں مریضوں کو ایکسرے کروانے کے لیے نجی تشخیصی مراکز کا رخ کرنا پڑ رہا ہے، جس سے غریب اور ضرورت مند خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔مقامی لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب چنہ پورہ میں اتنا بڑا طبی ڈھانچہ قائم کیا گیا ہے تو اسے مکمل طور پر عوامی خدمت کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق مرکز میں 50 بستروں کی گنجائش ہے جبکہ اس کی تعمیر و ترقی پر مبینہ طور پر تقریباً 23 کروڑ روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ مرکز میں دو ماڈیولر آپریشن تھیٹر، دو آکسیجن پلانٹ، ہاٹ لائن بجلی کی سہولت، لفٹ اور دیگر جدید طبی آلات و بنیادی ڈھانچہ بھی موجود ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق کووڈ 19 کی وبا کے دوران پی ایچ سی چنہ پورہ کے آپریشن تھیٹر فعال کیے گئے تھے جہاں مبینہ طور پر سیکڑوں ایل ایس سی ایس آپریشن کیے گئے۔ تاہم کووڈ کا دور ختم ہونے کے بعد آپریشن تھیٹر دوبارہ بند کر دیے گئے، حالانکہ طبی سہولیات اور مقامی آبادی کی ضرورت بدستور موجود ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ پی ایچ سی چنہ پورہ کو 24 گھنٹے مکمل طور پر فعال کرنے اور اسے سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کا درجہ دینے سے علاقے میں صحت خدمات مزید مضبوط ہوں گی اور سری نگر کے بڑے ہسپتالوں پر مریضوں کا دباو ¿ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔مقامی باشندوں نے لیفٹیننٹ گورنر اور موجودہ حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے میں ذاتی مداخلت کرتے ہوئے محکمہ صحت کو فوری طور پر ایکسرے ٹیکنیشن تعینات کرنے، موجودہ آپریشن تھیٹر دوبارہ فعال کرنے، ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور دیگر ضروری ملازمین کی دستیابی یقینی بنانے اور مرکز کو 24 گھنٹے فعال بنانے کی ہدایت دیں۔انہوں نے پی ایچ سی چنہ پورہ کو سب ڈسٹرکٹ ہسپتال کے طور پر اپ گریڈ کرنے کا عمل بھی تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقامی لوگوں نے کہا کہ عوامی وسائل سے تیار کیے گئے موجودہ طبی ڈھانچے کو غیر فعال رکھنے کے بجائے اسے مکمل طور پر عوامی مفاد میں استعمال کیا جانا چاہیے۔