سرینگر/وی او آئی//جموں و کشمیر پولیس نے محمد یوسف کتاری نامی ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر پہلگام حملے میں ملوث دہشت گردوں کو معاونت فراہم کرتا رہا۔ پولیس حکام کے مطابق، کتاری نے اپریل 22 کے حملے میں ملوث دہشت گردوں سے چار مرتبہ ملاقات کی اور انہیں ایک اینڈرائیڈ موبائل کا چارجر فراہم کیا، جو بعد میں اس کی گرفتاری کا سبب بنا۔26 سالہ کتاری کو ستمبر کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سلیمان عرف آصف، جبران اور حمزہ افغانی نامی دہشت گردوں کو اہم لاجسٹک مدد فراہم کی، جنہوں نے پہلگام کے سیاحتی مقام پر 26 افراد کو ہلاک کیا تھا، جن میں اکثریت سیاحوں کی تھی۔تحقیقات کے دوران کتاری نے اعتراف کیا کہ اس نے سری نگر کے مضافات میں واقع زبرون پہاڑیوں میں ان دہشت گردوں سے چار بار ملاقات کی۔ اس کی گرفتاری کئی ہفتوں کی تفتیش کے بعد عمل میں آئی، جس میں جولائی میں شروع کیے گئے “آپریشن مہادیو” کے دوران حاصل شدہ شواہد کا فرانزک تجزیہ شامل تھا۔ اس آپریشن میں پہلگام قتل عام میں ملوث تینوں دہشت گرد مارے گئے تھے۔پولیس نے جائے واردات سے ملنے والے جزوی طور پر تباہ شدہ موبائل چارجر کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا۔ سری نگر پولیس نے چارجر کے اصل مالک تک رسائی حاصل کی، جس نے تصدیق کی کہ اس نے متعلقہ موبائل ایک ڈیلر کو فروخت کیا تھا۔ یہی معلومات بالآخر کتاری تک پہنچنے کا ذریعہ بنیں۔حکام کے مطابق، کتاری جو بلند پہاڑی علاقوں میں خانہ بدوش طلبہ کو تعلیم دیتا تھا، دہشت گرد گروہ کے لیے ایک اہم وسیلہ بن چکا تھا۔ اس کی معاونت میں چارجر فراہم کرنا اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کی رہنمائی شامل تھی۔واضح رہے کہ سلیمان عرف آصف (پہلگام حملے کا ماسٹر مائنڈ)، جبران (اکتوبر 2024 کے سونمرگ ٹنل حملے سے منسلک) اور حمزہ افغانی 29 جولائی کو “آپریشن مہادیو” کے دوران مارے گئے تھے۔حکام نے مزید تفصیلات دینے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں، تاہم اس گرفتاری کو وادی کشمیر میں دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کیس نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کے حوالے کیا جائے گا، جو پہلے ہی پہلگام حملے کی بڑی سازش کی تحقیقات کر رہی ہے۔ NIA اب تک اس حملے میں دو افراد کو گرفتار کر چکی ہے، جن پر دہشت گردوں کو پناہ اور لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام ہے۔










