The construction of a bridge to connect the villages of Dogripura and Panzgam has not been completed.

پلوامہ:ڈوگری پورہ اور پنزگام کے درجنہوں دیہات کو ملانے کیلئے پل کی تعمیر ادھوری

سینکڑوں بچے صبح سویرے کشتیوں کے ذریعے دریائے جہلم پار کرنے پر مجبور ، گنڈبل جیسا سانحہ پھر پیش آسکتا ہے

سرینگر///جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ڈوگری پورہ اور پنزگام کو ملانے والا اہم پُل کو تعمیر کرنے کیلئے 17برس پہلے کام شروع کیا گیا تھا اور اس کیلئے کنکریٹ کے پلر بھی تعمیر کے گئے لیکن نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس پر کام ادھورا چھوڑا گیا ۔ اس علاقے کے سینکڑوں بچے صبح سویرے دریائے جہلم کشتیوں کے ذریعے پار کرتے ہیں جو کبھی بھی گنڈ پورہ بٹہ وارہ سرینگر سانحہ کی طرف ایک اور حادثے کا سبب بن سکتا ہے ۔ لوگوں نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں تمام سرکاروں سے التجا کی گئی متعلقہ محکمہ جات اور سابق وزراء کو بار بار اپیلیں کی گئیں لیکن زمینی سطح ُپر کچھ حاصل نہیں ہوا ہے ۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں دریائے جہلم پر پل کی تعمیرپر 17برس پہلے کام شروع کیا گیا تھا لیکن تب سے آج تک اس پل کو مکمل نہیں کیا گیا ۔ ذرائع کے مطابق 2006-07پر ڈوگری پورہ اور پنزگام کو ملانے کیلئے پل کی تعمیر شروع کی گئی اور اس کیلئے ٹھیکیداروں کو رقومات بھی فراہم کی گئی تھیں جنہوںنے پل کی بنیاد کے بعد اس پر پلر بھی تعمیر کئے گئے لیکن پلروں کا کام ختم ہونے کے بعد اس کو مزید آگے نہیں بڑھایا گیا اور نامعلوم وجوہات کی بناء پر اس پر کام روک دیا گیا ۔ تب سے آج تک 17برس گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک اس کا کام مکمل نہیں کیا گیا ۔ مقامی لوگوں نے وی او آئی نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ بتایا کہ پُل کی عدم دستیابی کے پیش نظر روزانہ سینکڑوں بچے کشتیوں کے ذریعے دریائے جہلم کو پار کرکے سکولوں کو جاتے ہیں اور واپسی پر بھی وہ کشتیوں کے ذریعے ہی اپنے گھر پہنچتے ہیں ۔ انہوںنے بتایا کہ یہ پل درجنوں دیہات کو آپس میں ملانے کا واحد راستہ ہے لیکن متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اس پل کو مکمل نہیں کیا جارہا ہے ۔ انہوںنے بتایا کہ جس طرح حال ہی میں سرینگر کے بٹہ وارہ گنڈ بل علاقے میں دریائے جہلم پار کرتے ہوئے 9افراد بشمول سکولی بچے لقمہ اجل بن گئے اسی طرح یہاں پر بھی کوئی بڑا سانحہ پیش آنے کا اندیشہ ہے کیوں کہ لوگوں کو اور کوئی متبادل ذریعہ نہیں ہے جس کو اپناتے ہوئے وہ دریاء پار کرتے اور اپنی اپنی منزلوں کی طرف بڑھتے ۔ لوگوں نے اب اس سلسلے میں جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا ، چیف سیکریٹری اٹل ڈلو ، سیکریٹری آر اینڈ بی ، ڈپٹی کمشنر پلوامہ اور دیگر متعلقہ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے پل پر کام روکنے کی وجوہات کا پتہ لگائیں اور اس پل پر تعمیر کا کام دوبارہ شروع کروائیں تاکہ کوئی جانی نقصان نہ ہو ۔