سرینگر//ا مامیہ فیڑریشن کشمیر نے حکومت ہندوستان کی جانب سے پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پیش کےء جانے کو حد درجہ افسوسناک قرار دیتے ھوے اس طرح کے عمل کو ناقابل قرار دیا ھے بیان میں کہا گیا کہ جموں کشمیر سمیت بھارت کی مختلف ریاستوں میں پھیلی وقف املاک کے بارے میں مجوزہ بل مسلمانوں کو ان املاک پر ان کے جایز حقوق سے محروم کرنے کے مترادف ھے اور جس طرح اس بل میں وقف املاک کے ضمن میں ڈسٹرکٹ کلکٹر کو اختیارات دےء جانے کی بات کہی گیء ھے کہ وہ ان املاک کے حوالے سے ریکارڑ کی چھان بین کرے اور ایک غیر مسلم کو بھی وقف بورڑ کا ذمہ دار بنانے کی بات کہی گیء ھے وہ وقف ایکٹ کے بنیادی قانون کی صریحاء بر عکس ھے کیونکہ نہ تو کویء غیر مسلم وقف کا ذمہدار بن سکتا ھے کیونکہ اس کے لےء پانچ سال تک کسی کا مسلمان ھونا لازمی ھے اور دوسرے یہ کہ بہت سی املاک کا کویء سرکاری ریکارڑ نہی ھے تو کیا ایسی املاک سے مسلمانوں کو محروم کیا جاسکتا ھے بیان میں میں کہا گیا کہ کشمیری عوام ایسے کس بھی قانون کے خلاف احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ھیں اور حکومت کو چاھیے کہ اس بل کو قانونی شکل دینے سے قبل اس کے منفی رد عمل کو نظر میں رکھے۔۔۔۔۔سکرٹیری










