سرحدپار کا ایک جنگجوہلاک،ایک واپس فرار ،AKرائفل،2پستول، بڑی مقدار میں گولہ بارود برآمد :دفاعی ترجمان
کرناہ ،سری نگر//فوج نے بدھ کے روزکہاکہ سرحدی ضلع کپوارہ کے سیدپورہ ٹنگڈارسیکٹرمیں دراندازی کی ایک شبانہ کوشش کوناکام بناتے ہوئے سرحدپار سے تعلق رکھنے والے ایک دہشت گردکوہلاک کیاگیا۔فوج کے مطابق جائے موقعہ سے اسلحہ وگولی باردوسمیت مجرمانہ موادکوبرآمد کرکے ضبط کیاگیاجبکہ اس علاقے میں بڑے پیمانے پرتلاشی کارروائی شروع کردی گئی ،کیونکہ پہلے ہی مصدقہ اطلاعات ملی تھیں کہ کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گردوں کاایک گروپ ممکنہ طورپردراندازی کی کوشش کرسکتاہے۔ جے کے این ایس کے مطابق پی آر او (دفاع) سری نگرکرنل ایمرون موسوی نے ایک بیان میں کہاکہ ہندوستانی فوج نے جموں وکشمیرپولیس کے ساتھ مل کر25اور26اکتوبرکی درمیانی رات کو ٹنگڈارسیکٹر میں ایل او سی کے ساتھ دہشت گردوں کی دراندازی کی ایک بڑی کوشش کو ناکام بنا دیا، اس طرح وادی کشمیر میں ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔پی آرائوڈیفنس نے کہاکہ کپواڑہ ضلع کی کرناہ تحصیل میں فارورڈ سد پورہ کے راستے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کے ایک گروپ کی دراندازی کے بارے میں جموں وکشمیرپولیس اور د یگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے تصدیق شدہ مخصوص معلومات کی بنیاد پر، سیکورٹی فورسز نے ایک مشترکہ آپریشن شروع کیا۔انہوںنے کہاکہ دراندازی مخالف گرڈ پر الرٹ دستوں نے لائن آف کنٹرول کے قریب اگلے علاقیمیں 2دہشت گردوں کو اس جانب گھسنے کی کوشش کرتے دیکھا۔کرنل ایمرون موسوی نے کہاکہ26 اکتوبر کی صبح تقریباً ایک بجکر45منٹ پر دراندازی کرنے والے دہشت گردوں پر گولی چلائی گئی، جس کے نتیجے میں ایک دہشت گرد مارا گیا۔ تاہم، اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرا دہشت گرد پاکستانی قبضے والے کشمیر کی طرف فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔انہوںنے کہاکہ صبح ایک تلاشی آپریشن شروع کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک اے کے سیریز کی رائفل، 2پستول اور بڑی مقدار میں گولہ بارود اور جنگی سامان برآمد ہوا۔کرنل ایمرون موسوی نے کہاکہ ایجنسیوں کے مطابق، مارے گئے دہشت گرد کی شناخت32سالہ محمد شکور ولد یعقوب ساکنہ سید پورہ پاکستانی زیرقبضہ کشمیر کے طور پر کی گئی ہے۔پی آر او (دفاع) سری نگرنے کہاکہ سد پورہ کے راستے لشکر طیبہ کے دہشت گردوں کے ایک گروپ کی ممکنہ دراندازی سے متعلق متعدد اطلاعات سیکورٹی فورسز کو موصول ہوئیں۔ مذکورہ بالا معلومات کی بنیاد پر علاقے کو مسلسل نگرانی میں رکھا گیا تھا۔ بروقت کارروائی اور ہندوستانی فوج، جے کے پی اور دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان قریبی تال میل کی وجہ سے دراندازی کی کوشش کو ناکام بنایا گیا اور اندرونی علاقوں میں امن کو ممکنہ خطرہ لاحق ہوا۔انہوںنے مزیدکہاکہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ مسلسل مصروفیات پاکستان کی طرف سے کشمیر میں دہشت گردی کو ہوا دینے اور جنگ بندی مفاہمت کے پہلو کو آگے بڑھاتے ہوئے امن اور ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوششوں کی غیر معمولی یاددہانی ہیں۔ پاکستانی زیرقبضہ کشمیر میں نوجوانوں کو پاکستان کی ریاستی پالیسی کے ذریعے گزشتہ 3 دہائیوں سے توپ کے چارے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جس کا مقصد اجتماعی امن کی طرف مسلسل پیشرفت کو روکنا ہے۔










