سری نگر//وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے رابطہ ‘آفس گپکار میں مختلف عوامی وفود کے ساتھ ملاقات کی اور اُن کے مسائل اور مطالبات بغور سُنا۔ باہمی اِمداد محکمہ کے ملازمین کے ایک وفد نے ایگزیکٹیو سٹاف کے ساتھ تنخواہوں میں تفاوت کا مسئلہ اُٹھایا جس پر مشیرموصوف نے یقین دِلایا کہ ان کے تحفظات کو ہمدردی سے جائزہ لیا جائے گا۔جے کے اے ایس اُمیدواروں نے اوپن میرٹ کے لئے بالائی عمر کی حد کو مستقل طور پر 37 سال کرنے کا مطالبہ کیا جیسا کہ دیگر ریاستوں اور یونین ٹیریٹریز میں رائج ہے۔ مشیر ناصر اسلم وانی نے یقین دِلایا کہ یہ معاملہ متعلقہ حکام کے ساتھ غور کے لئے اُٹھایا جائے گا۔نیو کالونی سمربُگ کے نمائندوں نے 51 کنبوں کی بازآبادکاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا مسئلہ اُٹھایا۔ مشیرموصوف نے کہا کہ رہائشیوں کے جائز مسائل کے حل کے لئے ضروری اَقدامات شروع کئے جائیں گے۔مشیرموصوف نے شفقت وتالی کی قیادت میں ڈریگن بوٹ ایتھلیٹس کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی ۔ وفد نے آبی کھیلوں سے متعلق کئی مسائل پیش کئے۔بعد ازاں، آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز یونین کے ایک وفد جس کی قیادت اس کے جنرل سیکرٹری کر رہے تھے ، نے مشیر ناصر اسلم وانی سے ملاقات اور پنجاب میں مویشیوں کے ٹرانزٹ ٹرکوں سے بھتہ وصولی کو روکنے کے لئے فوری مداخلت کی درخواست کی جس سے کشمیری تاجروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ مشیرموصوف نے یقین دِلایا کہ یہ مسئلہ فوری طور پر متعلقہ حکام کے ساتھ اُٹھایا جائے گا۔مشیر موصوف نے تمام وفود سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت عوامی مسائل کے بروقت حل کے لئے پُرعزم ہے اور یونین ٹیریٹری میں جوابدہ اور مؤثر طرز حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔










