وزراء اور اِنتظامی سیکرٹریوں کی اگلی میٹنگ بدھ کو گلمرگ میں منعقد ہوگی
پہلگام// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پہلگام میں وزرأ کی کونسل کی 11ویں میٹنگ کی صدارت کی جو موجودہ حکومت کے دور میں سری نگر یا جموں سے باہر منعقد ہونے والی پہلی کابینہ میٹنگ ہے۔یہ میٹنگ 22 ؍اپریل کو بائیسرن میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد منعقد کی گئی ہے جس کے بعد وادیٔ کشمیربالخصوص پہلگام میں سیاحتی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔ پہلگام کا اِنتخاب متاثرین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور وادی میں اَمن و امان کی بحالی کے لئے حکومتی عزم کا مظہر ہے۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت (2009 ء تا 2014ء ) میں بھی گریز، مژھل ، ٹنگڈار، پیر پنجال علاقے کے راجوری اور پونچھ جیسے دور دراز علاقوں میں کابینہ کی میٹنگیں منعقد کی تھیں۔کابینہ کی اس میٹنگ کے انعقاد کا فیصلہ دو دن بعد آیا ہے جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز نیتی آیوگ جنرل کونسل میٹنگ میں جموں و کشمیر کے سیاحتی شعبے کی بحالی کی تجویز پیش کی تھی جو بائیسرن دہشت گردانہ حملے سے شدید متاثر ہوا ہے ۔میٹنگ میں مرکزی سرکاری اداروں، پبلک سیکٹر یونٹوں اور پارلیمانی کمیٹیوں سے کشمیر میں میٹنگیں اور کانفرنسیں منعقد کرنے کی تجویز دی گئی تاکہ عوام کے اعتماد کو بحال کیا جا سکے۔اِس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بدھ کے روز گلمرگ میں وزراء اور اِنتظامی سیکرٹریوں کے ساتھ ایک اور اہم میٹنگ کی صدارت کریں گے۔ اِس میٹنگ کا مقصد عوامی خوف کو کم کرنا، تحفظ کا احساس پیدا کرنا اور سیاحت و معیشت کی بحالی کی راہ ہموار کرنا ہے۔










