وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے 4 اگست کو کابینہ اجلاس طلب کر لیا

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے 4 اگست کو کابینہ اجلاس طلب کر لیا

وزارتی ردوبدل کی قیاس آرائیوں کے درمیان اجلاس، ستمبر میں اسمبلی اجلاسبھی ایجنڈے میں شامل

سرینگر// جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے 4 اگست کو سری نگر میں کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے، جس میں ستمبر میں قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلانے، جموں ماسٹر پلان-2032 کی منظوری، حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی بحالی، مختلف ترقیاتی منصوبوں اور دیگر اہم انتظامی معاملات پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ اس دوران وزارتی ردوبدل کی قیاس آرائیاں بھی زوروں پر ہیں اور ذرائع کے مطابق یہ موجودہ کابینہ کا آخری اجلاس ثابت ہو سکتا ہے۔سرکاری ذرائع کے مطابق کابینہ کا اجلاس 4 اگست کو شام 4 بجے سول سیکریٹریٹ سری نگر میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں منعقد ہوگا۔ اس سے قبل کابینہ کا آخری اجلاس 23 جون کو ہوا تھا جبکہ جولائی کے دوران کوئی اجلاس نہیں بلایا گیا۔یو این ایس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے اس اجلاس میں محکمہ تعمیرات عامہ، جل شکتی، دیہی ترقی اور دیگر محکموں کے متعدد ترقیاتی منصوبوں کو منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کئی سرکاری افسران کی ترقیوں کی بھی منظوری متوقع ہے۔کابینہ کے ایجنڈے میں ستمبر کے دوران جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کی تاریخ اور دورانیہ طے کرکے منظوری کے لیے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کو سفارش بھیجے گی۔ منظوری کے بعد اسپیکر اسمبلی عبدالرحیم راتھر اجلاس کا باضابطہ کیلنڈر جاری کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ آئینی تقاضے کے مطابق اسمبلی کا اجلاس ہر چھ ماہ کے اندر منعقد ہونا ضروری ہے۔ چونکہ رواں سال بجٹ اجلاس 4 اپریل کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہوا تھا، اس لیے اگلا اجلاس 4 اکتوبر سے پہلے بلانا لازمی ہے۔ حکومت ستمبر کے اواخر میں اسمبلی اجلاس منعقد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ جموں ماسٹر پلان-2032 پر بھی غور کرے گی، جس کے تحت جموں شہر کی حدود میں نمایاں توسیع کی گئی ہے۔ متعدد دیہات کو شہری حدود میں شامل کرنے، نئی رہائشی کالونیوں کے قیام اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے اس ماسٹر پلان کا حصہ ہیں۔ محکمہ ہاؤسنگ و اربن ڈیولپمنٹ نے منصوبہ مکمل کر لیا ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔یو این ایس کے مطابق اجلاس میں حالیہ شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق نقصان زدہ سڑکوں، پلوں اور دیگر عوامی اثاثوں کی مرمت و تعمیر نو کے لیے فنڈز کی منظوری بھی متوقع ہے۔ وزیر اعلیٰ پہلے ہی سیلاب میں جان بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 6 لاکھ روپے ایکس گریشیا امداد کا اعلان کر چکے ہیں۔ادھر وزارتی ردوبدل کی قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔ اس وقت وزیر اعلیٰ سمیت کابینہ میں چھ ارکان شامل ہیں جبکہ تین وزارتیں خالی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ میں توسیع اور ردوبدل کا عمل اگست کے دوران مکمل کیے جانے کا امکان ہے اور 4 اگست کا اجلاس موجودہ کابینہ کا آخری اجلاس ثابت ہو سکتا ہے۔