حلمولہ سنگم اِنڈسٹریل ا سٹیٹ کا دورہ ، وِلو کی شجرکاری ، بجلی کی فراہمی ، بنیادی ڈھانچے اور طریقۂ کار میں اِصلاحا ت کے اقدامات کا اعلان
سنگم ( بجی بہاڑہ)//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کشمیر کی عالمی شہرت یافتہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کے تحفظ اور فروغ کے لئے اپنی حکومت کے مکمل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ روایتی صنعت کو نہ صرف محفوظ رکھنا بلکہ آئندہ نسلوں تک ترقی دینا حکومت کی ذِمہ داری ہے۔وزیر اعلیٰ نے حلمولہ سنگم اِنڈسٹریل ا سٹیٹ میں کرکٹ بیٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے اراکین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صنعت کاروں کو درپیش مسائل بالخصوص وِلو کی لکڑی کی دیرپا دستیابی، بلا تعطل بجلی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری اور کاروبار کو آسان بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کرے گی۔اُنہوں نے ایسوسی ایشن کی طرف سے اُٹھائے گئے مطالبات جواب دیتے ہوئے کہا کہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کے تحفظ کے لئے فوری اقدامات ضروری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ روایتی صنعتوں کا تحفظ اتنا ہی اہم ہے جتنا نئی صنعتوں کو فروغ دینا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری جموں و کشمیر کی منفرد شناخت ہے جسے مقامی خام مال، ہنر مند کاریگروں اور ملکی و بین الاقوامی سطح پر مضبوط مارکیٹ کی سہولیت حاصل ہے۔اُنہوںنے کہا کہ اس صنعت کی کامیابی کے لئے تمام بنیادی وسائل موجود ہیں اور حکومت اس کی مسلسل ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے۔
عمر عبداللہ نے وِلو کے درختوں کی کم ہوتی تعداد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر وِلو کی شجرکاری کا مطالبہ بالکل جائز ہے کیوں کہ مسلسل کٹائی اور دوبارہ شجرکاری نہ ہونے کی وجہ سے مستقبل میں خام مال کی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔اُنہوں نے بین الاقوامی کامیاب تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت وِلو کے درختوں کی منظم انداز میں دوبارہ شجرکاری کو فروغ دے گی تاکہ خام مال کی مسلسل اور دیرپا فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اس مقصد کے لئے بہتر اقسام کے وِلو درختوں پر بھی غور کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے صنعت کاروں کو یقین دِلایا کہ ولو کلیفٹس کی غیر قانونی ٹرانسپورٹیشن روکنے کے لئے نگرانی کے نظام اور چیک پوسٹوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔اُنہوں نے بہتر بنیادی ڈھانچے کے مطالبے پر کہا کہ اِنڈسٹریل اسٹیٹ میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لئے ایک تجویز تیار کر کے محکمہ بجلی کو منظوری کے لئے بھیجی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی یقینی یقین دِلایا کہ انڈسٹریل اسٹیٹ میں کام کرنے والے مزدوروں کو حادثات کی صورت میں بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور مستقل فائر اینڈ ایمرجنسی یونٹ کے قیام کے مطالبے پر بھی کارروائی کی جائے گی۔اُنہوں نے کامن ٹریٹمنٹ فیسلٹی سینٹر کی بحالی کی تجویز پر محکمہ صنعت اور مقامی ممبر اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ مشترکہ طور پر اس ضرورت کا جائزہ لے کر مناسب جگہ کی نشاندہی کریں۔اُنہوں نے محکمہ صنعت کو ہدایت دی کہ طریقۂ کار کو مزید آسان بنایا جائے اور غیر ضروری رُکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کی توسیع اور ہموار فعالیت ممکن ہو سکے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کی مسلسل ترقی کو یقینی بنانا ہے اور اس شعبے کے لئے مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔بعد میں وزیر اعلیٰ نے اِنڈسٹریل اسٹیٹ میں ایک کرکٹ بیٹ بنانے والی فیکٹری کا دورہ کیا اور اُنہوں نے وہاںولو کلیفٹس سے تیار شدہ کرکٹ بیٹ تک تیاری کے مختلف مراحل کا مشاہدہ کیا۔ اُنہوں نے کاریگروں اور مزدوروں سے بات چیت کی، ان کی مہارت کو سراہا اور کشمیر کی عالمی شہرت یافتہ کرکٹ بیٹ اِنڈسٹری کے تحفظ میں ان کے رول کی سراہنا کی۔ اُنہوں نے ان کے کام کے حالات کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں اور اس شعبے کو مضبوط بنانے کے لئے حکومت کی مسلسل پالیسی معاونت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے عزم کا اعادہ کیا۔اِس سے قبل کرکٹ بیٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے ممبران نے وزیر اعلیٰ کے سامنے ولو کیا دیرپا شجرکاری، خام مال کی دستیابی، ولو کی کٹائی کے لئے مخصوص کمپارٹمنٹوں کی الاٹمنٹ، اِنڈسٹریل اسٹیٹ کے لئے چوبیس گھنٹے بلا تعطل بجلی، مستقل فائر اینڈ ایمرجنسی یونٹ، مزدوروں کے لئے طبی سہولیات اور ولو کلیفٹس کی غیر قانونی ٹرانسپورٹیشن روکنے جیسے مسائل پیش کئے۔اِس موقعہ پر نائب وزیر اعلیٰ سریندر کمار چودھری، وزیربرائے جنگلات و ماحولیات جاوید احمد رانا، ممبر اسمبلی بجبہاڑہ۔سری گفوارہ ڈاکٹر بشیر احمد شاہ ویری، ڈائریکٹر اِنڈسٹریز کشمیر، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے کے بی او سی ڈبلیو ڈبلیو بی، ڈائریکٹر رکھ اینڈ فارمز، ڈائریکٹر ہینڈلوم اینڈ ہینڈی کرافٹس، کرکٹ بیٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے نمائندے اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔










