آئی ایف ایف جے کے ۔2026 کی تیاریوں کا جائزہ ،مقامی فلم سازوں کو بااِختیار بنانے ، سینماکے عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے اور فیسٹول کو ایک اہم ثقافتی و اِقتصادی تقریب بنانے پر زور
سری نگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر کے پہلے بین الاقوامی فیسٹول( آئی ایف ایف جے کے ) ۔2026 کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی۔ یہ فیسٹول خطے کے شاندار فلمی ورثے کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے ایک اہم اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔میٹنگ میں فیسٹول کے ویژن ،اِس کی سکریننگ اور پروگرامنگ کی حکمت عملی، برانڈنگ، ڈیجیٹل تشہیر،انڈسٹری پارٹنر شپ اور بین الاقوامی شرکت جیسے اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ڈائریکٹر اطلاعات و تعلقات عامہ شریا سنگھل نے فیسٹول کے پہلے ایڈیشن کے مجوزہ فریم ورک کا خاکہ پیش کرتے ہوئے ایک جامع پرزنٹیشن پیش کی۔وزیراعلیٰ نے تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی فلم فیسٹول کو ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ سنیمائی تقریب کے طور اُبھرنا چاہیے جو کہانی سنانے کا جشن مناتے ہوئے جموں و کشمیر کے دلکش مناظر، بھرپور ثقافتی ورثے، فنی روایات اور اُبھرتی ہوئی تخلیقی صلاحیتوں کو اُجاگر کرے۔اُنہوں نے عالمی معیار کے مطابق ایک پیشہ ورانہ انداز میں منعقد کئے جانے والے فیسٹول کی ضرورت پر زور دیا جو دُنیا بھر کے نامور فلم سازوں، پروڈیوسروں، فن کاروں اور سنیما کے شائقین کو اَپنی جانب راغب کر سکے۔اُنہوںنے واضح کیا کہ اس فیسٹول کو محض ایک فلمی ایونٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ یہ جموں و کشمیر کے لئے ایک اہم ثقافتی اور اِقتصادی پلیٹ فارم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ ایونٹ سیاحت، سرمایہ کاری، روزگار اور تخلیقی معیشت کے شعبوں میں مواقع پیدا کرے گا اور جموں و کشمیرکو فلم پروڈکشن، تخلیقی سرگرمیوں اور سنیمٹک ٹوراِزم کے لئے ہندوستان کی پسندیدہ منزل کے طور پر اَپنے تاریخی مقامی کی تصدیق بھی کرے گا۔وزیر اعلیٰ نے مقامی تخلیقی ماحولیاتی نظام کو پروان چڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہدایت دی کہ مقامی فلم سازوں، رائٹرز، ہدایت کاروں، اَداکاروں، سنیماٹوگرافروں، تکنیکی ماہرین، فوٹوگرافروں، ڈیزائنرز، کاریگروں اور دیگر تخلیقی پیشہ وراَفراد کو نمائشوں،نیٹ ورکنگ کے مواقع اور کاروباری روابط کے ذریعے فلم فیسٹول کے ساتھ بامعنی طور پر مربوط کیا جائے۔اُنہوں نے منتظمین کو مزید ہدایت دی کہ مقامی ٹیلنٹ اور قومی و بین الاقوامی سطح کے معروف فلم سازوں، پروڈیوسروں، ہدایت کاروں، اَداکاروں اورصنعتی ماہرین کے درمیان خصوصی ماسٹر کلاسز،مکالماتی نشستوں، ورکشاپوں، پینل ڈسکشنز، مینٹورنگ سیشنز اور معلومات کے تبادلے کے مواقع فراہم کئے جائیں۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے اقدامات جموں و کشمیر کے نوجوان تخلیق کاروں کو عالمی تجربہ، تکنیکی مہارت اور فلمی صنعت سے روابط فراہم کریں گے جبکہ فلم سازی میں جدت اور معیار کو فروغ دیں گے۔اُنہوںنے مزید کہا کہ فیسٹول میں ایک خصوصی شعبہ قائم کیا جائے جس کے ذریعے ان ممتاز اَداکاروں، فلم سازوں، ہدایت کاروں، پروڈیوسروں، سنیماٹوگرافروں، موسیقاروں اور دیگر شخصیات کو اعزاز دیا جاسکے جنہوں نے دہائیوں سے جموں و کشمیر میں یادگار فلمیں بنا کر خطے کے فلمی ورثے کو زندہ رکھا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان شخصیات کی خدمات کا اعتراف کشمیر کے ہندوستانی سینما کے ساتھ دیرینہ تعلق کو اُجاگر کرے گا اور فلمی صنعت و جموں و کشمیر کے درمیان ایک نئی شراکت داری کو فروغ دے گا۔اُنہوں نے فیسٹول کی وسیع تر ترقیاتی صلاحیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب مقامی کاریگروں، دستکاروں، کاروباری اَفراد اور سیاحت سے وابستہ لوگوں کے لئے بھی مواقع پیدا کرے گی تاکہ اس کے فوائد صرف فلمی شعبے تک محدود نہ رہیں۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ فیسٹول کو جموں و کشمیر کی فن کارانہ، ثقافتی اور کاروباری صلاحیتوں کے جامع جشن کے طور پر منعقد کیا جائے۔ دورانِ میٹنگ فیسٹول کی برانڈنگ حکمت عملی، عالمی سطح پر رسائی، پروگرامنگ، ڈیجیٹل رابطہ کاری، تکنیکی تعاون، وینیو مینجمنٹ، سامعین کے تجربے، تشہیری مہمات اور اِدارہ جاتی شراکت داری پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ مجوزہ فیسٹول میں بین الاقوامی مقابلے، ہندوستانی سنیما، دستاویزی فلمیں، مختصر فلمیں، طلبأ کی فلمیں، اینی میشن، علاقائی سنیما، صنعتی فورمز، ورکشاپس اور ثقافتی پروگرام پیش کئے جائیں گے۔چار روزہ یہ فیسٹول ستمبر 2026 میں منعقد کرنے کی تجویز ہے جس کے دوران متعدد مقامات پر فلموں کی سکریننگ کی جائے گی اور فلم سازوں، مندوبین اورسامعین و ناظرین کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جائے گا۔میٹنگ میں ایک خصوصی ڈیجیٹل نظام قائم کرنے کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیاجس میںفیسٹول کی ویب سائٹ اور آرٹیفیشل اِنٹلی جنس( اے آئی) پر مبنی موبائل ایپلی کیشن شامل ہوگی تاکہ فلموں کے اندراج، رجسٹریشن،ایکریڈی ٹیشن، شیڈولنگ، ناظرین کی شرکت، میڈیا رابطہ کاری اور فیسٹول کے اِنتظام کو آسان بنایا جا سکے۔ایک مربوط سوشل میڈیا مہم اور عالمی تشہیری حکمت عملی پر بھی غور وخوض کیا گیا۔ پریمیئر فلمی اِداروں کے ساتھ فیسٹول کی تدوین، جیوری سپورٹ، صلاحیت سازی اور مقامی نوجوانوں کے لئے خصوصی تربیت سے متعلق تکنیکی شراکت داریوں کی تجاویز بھی غور وخوض کیا گیا۔ توقع ہے کہ یہ فیسٹول ہندوستان اور بیرونِ ملک سے نامور فلم سازوں، اداکاروں، پروڈیوسروں، تکنیکی ماہرین، فلمی نقادوں اور ثقافتی شخصیات کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرے گا۔اُنہوں نے تمام متعلقہ محکموں کو قریبی رابطے کے ساتھ کام کرنے اور اِفتتاحی فیسٹول کے کامیاب و احسن اِنعقاد کے لئے تمام تیاریوں کو بروقت مکمل کرنے کی ہدایت دی۔میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی، وزیر اعلیٰ کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری دھیرج گپتا، ایڈیشنل چیف سیکرٹری فائنانس شیلندر کمار، کمشنر سیکرٹری اِنفارمیشن آر ایلس ویز، کمشنر سیکرٹری فلور ی کلچر، پارکس اینڈ گارڈنز زُبیر احمد، ڈائریکٹر اِنفارمیشن شریا سنگھل، جوائنٹ ڈائریکٹر اِنفارمیشن کشمیر سیّد شہنواز بخاری، جوائنٹ ڈائریکٹر اِنفارمیشن جموں دیپک دوبے، محکمہ سیاحت و جنرل ایڈمنسٹریشن کے سینئر اَفسران، این ایف ڈِی سی کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ اَفسران نے شرکت کی۔










