کشمیر میں اگلے 20 برسوں میں رہائشی کیلئے اراضی مشکل ہوجائے گی
سرینگر// اگلے 20 برسوں میں وادی کشمیر میں لوگوں کو رہائشی کیلئے جگہ دستیاب نہیں ہوگی جبکہ قبرستان کیلئے بھی جگہ ملنے مشکل ہوجائے گی کیونکہ جس انداز سے رہائشی علاقے کمرشل علاقوں میں تبدیل ہورہے ہیں اس سے یہاں پر رہائشی کیلئے کہیں بھی اراضی نہیں ملے گی۔ وائس آف انڈیا کے نمائندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیر میں رہائشی علاقے تیزی کے ساتھ تجارتی علاقوں میں تبدیل ہورہے ہیں جہاں پر مکانات کی جگہ اب دکانیں ، شاپنگ مالز اور ہوٹل بنائے جارہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ رک نہیں گیا تو اگلے 20 برسوں میں رہائشی کیلئے ایک ٹکڑا زمین بھی ملنا مشکل ہوجائے گا۔ ایک سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو رہائشی کیلئے زمین ملنا دور کی بات بلکہ قبرستانوں کیلئے اراضی ملنی مشکل ہوجائے گی اور یہ کشمیری قوم کیلئے ایک بھیانک وقت لائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرینگر میں دیگر قصبہ جات کے مالدار شخصیات اراضی اور رہائشی مکانات مہنگے داموں خریدکر اس پر دکانیں ، شاپنگ مالز اور ہوٹل تعمیر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے شہر سرینگر سمیت وادی کے دیگر اضلاع میں ایک غریب کو اپنے لئے رہائشی حاصل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے پارکوں ، قبرستانوں کیلئے محدود ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر قبل از وقت اس کیلئے اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو آئندہ 20 برسوں میں جو حالات ہوں گے وہ بھیانک اور کافی پریشان کن ہوں گے کیوں کہ وادی کشمیر میں رہائشی تو دور کی بات قبرستان کیلئے بھی اراضی ملنی مشکل ہوجائے گی۔










