سرینگر میں ایک اور بڑی کارروائی

وادی میں سڑے ہوئے گوشت کے کاروبار پر حکومت کا موقف سخت

جموں و کشمیر میں غیر محفوظ منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی اشیاء پر فوری پابندی عائد

سرینگر//وی او آئی//وادی کشمیر میں غیر معیاری اور سڑے ہوئے گوشت کے کاروبار پر حکومت نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جموں کشمیر میں غیر محفوظ منجمد اور کھام گوشت کے کاروبار پر پابندی عائد کردی ہے تاکہ لوگوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے اور اس کاروبار پر فوری روک لگ جائے جو لوگوں کی صحت کو بگاڑنے کا موجب بن رہا ہے ۔ یہ اقدام فوڈ سیفٹی ونگ کی جانب سے کی گئی وسیع جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا، جس دوران متعدد مقامات پر سڑے ہوئے، گل سڑ چکے اور بغیر لیبل کے منجمد و ٹھنڈے گوشت کی اشیاء برآمد ہوئیں۔ وائس آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں فوڈ سیفٹی کمشنر نے ایک سخت پابندی کا حکم جاری کرتے ہوئے ایسے منجمد اور ٹھنڈے گوشت کی تیاری، ذخیرہ، تقسیم، ترسیل اور فروخت پر فوری پابندی عائد کر دی ہے جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کے تحت مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔یہ حکم فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن کے کمشنر کی جانب سے جاری کیا گیا۔یہ اقدام فوڈ سیفٹی ونگ کی جانب سے کی گئی وسیع جانچ پڑتال کے بعد سامنے آیا، جس دوران متعدد مقامات پر سڑے ہوئے، گل سڑ چکے اور بغیر لیبل کے منجمد و ٹھنڈے گوشت کی اشیاء برآمد ہوئیں۔ غیر محفوظ اسٹاک کو قانون کے مطابق ضبط کر کے تلف کر دیا گیا۔یہ اشیاء فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعہ 3(1)(zz) کے تحت “غیر محفوظ خوراک” کے زمرے میں آتی ہیں، جس پر باب IX اور دفعہ 59 کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ضبط شدہ اشیاء پر درج ذیل لازمی لیبلنگ معلومات موجود نہیں تھیں۔- بیچ/لاٹ نمبر ،- تیاری، پیکنگ اور اختتام کی تاریخ ،- ذخیرہ کرنے کی شرائط (منجمد/ٹھنڈی) ،- تیار کنندہ/پیکر/درآمد کنندہ کا نام و پتہ ،- ایف ایس ایس اے آئی لائسنس نمبر اور لوگو ،- غیر سبزی خور علامت ،متعدد اشیاء پر یہ معلومات یا تو غیر واضح تھیں یا مکمل طور پر غائب، جو 2020 کے لیبلنگ و ڈسپلے ضوابط کی دفعات 4(1)، 6 اور 9 کی خلاف ورزی ہے۔فوڈ بزنس کے لائسنسنگ و رجسٹریشن ضوابط 2011 کے تحت بھی کئی اہم نکات کی خلاف ورزی سامنے آئی، جن میں شامل ہیں۔- منجمد اشیاء کی وصولی کا درجہ حرارت -18°C یا اس سے کم ہونا چاہیے ۔- خام گوشت، مرغی اور سمندری خوراک کو تیار شدہ اشیاء سے الگ سرد ذخیرہ میں رکھنا ،- تمام مراحل میں وقت اور درجہ حرارت کی سخت نگرانی کا نظام ہونا ضروری ہے ۔کمشنر نے غیر محفوظ طریقوں کی روک تھام کے لیے منجمد و ٹھنڈے گوشت کی اشیاء کے لیے کم از کم قانونی معیار کی یاد دہانی کرائی:- منجمد گوشت کو ہر مرحلے پر -18°C یا اس سے کم درجہ حرارت پر ذخیرہ و ترسیل کیا جائے ۔- ٹھنڈا گوشت 0–4°C پر قلیل مدتی ذخیرہ کے لیے رکھا جائے ۔- منجمد گوشت پر “تاریخِ منجمد” درج ہو اور یہ تاریخ سے بارہ ماہ بعد فروخت نہ ہو ۔- ای کامرس ترسیل میں کم از کم 30 فیصد شیلف لائف یا 45 دن باقی ہونے چاہئیں ۔- ذخیرہ و ترسیل کی سہولیات میں درجہ حرارت کی نگرانی کے آلات اور ریکارڈ ہونا لازم ،- گوشت کی نوعیت واضح طور پر درج ہو (مثلاً بکرا، بھینس، مرغی) ،فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 کی دفعات 1(a)، 18(1)(f) اور 29(3) کے تحت عوامی صحت کے تحفظ، خطرات سے آگاہی، نگرانی اور محفوظ خوراک کی فراہمی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔دفعہ 30(2) کے تحت کمشنر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ عوامی مفاد میں کسی بھی خوراک کی تیاری، ذخیرہ، تقسیم یا فروخت پر ایک سال تک پابندی عائد کر سکے۔جانچ کے نتائج اور قانونی دفعات کو مدنظر رکھتے ہوئے کمشنر نے اعلان کیا کہ یونین ٹیریٹری میں صحت کے لیے خطرناک حالات موجود ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے فوری اقدام ضروری ہے۔اسی تناظر میں، محترمہ سمیتا سیٹھی، کمشنر فوڈ سیفٹی (فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن، جموں و کشمیر) نے فوری طور پر ان تمام منجمد و ٹھنڈے گوشت کی اشیاء پر پابندی عائد کر دی ہے جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ 2006 اور اس کے ضوابط پر پورا نہیں اترتیں۔یہ حکم اس وقت تک نافذ العمل رہے گا جب تک صحت کے لیے خطرے کا مکمل خاتمہ ثابت نہ ہو جائے یا حکم میں ترمیم یا منسوخی نہ کی جائے۔