نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلنے والوں کو بخشا نہیں جائے گا// وزیر داخلہ امیت شاہ
سرینگر// مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی فلاح و بہبود اور ان کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا مودی حکومت کی اولین ترجیح اور پختہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے جیسے سنگین معاملات میں فوری سماعت اور قصورواروں کو سخت سزا دلانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ اسی عزم کا عملی اظہار ہے۔یو این ایس کے مطابق امت شاہ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیپر لیک کے مقدمات میں تیز رفتار سماعت اور سخت کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا فیصلہ ان عناصر کے خلاف ایک مؤثر اقدام ثابت ہوگا جو نوجوانوں کے مستقبل سے کھیلتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپر لیک جیسے جرائم لاکھوں طلبہ کی محنت، اعتماد اور مستقبل کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے حکومت ایسے معاملات میں کسی قسم کی نرمی برتنے کے حق میں نہیں ہے۔ ان کے مطابق حکومت کی کوشش ہے کہ قصورواروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لا کر عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔اس سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے پیغام میں کہا تھا کہ نوجوانوں کی فلاح اور ان کا مستقبل حکومت کی سب سے بڑی ترجیح ہے اور جو عناصر ان کے مستقبل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے، انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ پیپر لیک کے واقعات کی روک تھام اور قصورواروں کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے قیام کا فیصلہ طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اہم اقدامات کی کڑی ہے اور اس سے امتحانی نظام پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جبنیٹ امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیک کے الزامات پر ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ چند روز قبل ہزاروں طلبہ نے سنسد چلو مارچ میں شرکت کرتے ہوئے امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف آواز بلند کی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن میں متعدد طلبہ اور پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نیٹ پیپر لیک معاملے پر پہلی مرتبہ منگل کو این ڈی اے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عوامی طور پر اظہارِ خیال کیا تھا، جس کے بعد حکومت نے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کا اعلان کیا ہے۔










