SCERT’s 3 day workshop on media reporting concludes

میڈیا رِپورٹنگ پر ایس سی اِی آر ٹی کا 3روزہ ورکشاپ اِختتام پذیر

سری نگر//سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ ( ایس سی اِی آر ٹی ) کے زیر اہتمام ٹیچر ایجوکیٹروں کے لئے ’’میڈیا رِپورٹنگ کے ضروری اَمور‘‘پر 3روزہ ورکشاپ کل یہاں اِختتام پذیر ہوا۔ورکشاپ جس کا اہتمام سی سی اِی آر ٹی کے میڈیا وِنگ نے کیا تھا ۔ ورکشاپ میں سابق پروفیسر میڈیا ایجوکیشن ریسرچ سینٹر ( ایم اِی آر سی ) ناصر مرزا، اسسٹنٹ پروفیسر ڈیپارٹمنٹ آف جرنل اِزم اینڈ ماس کمیونکیشن اِسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی( آئی یو ایس ٹی ) ڈاکٹر روحیلہ حسن شیخ ، سینئر سپر اِنٹنڈنٹ پولیس ( ایس ایس پی ) ٹریفک سری نگر مظفر احمد شاہ ، ایک مشہور طنز نگار، شاعر اور مورّخ ظریف احمد ظریف اور دیگر متعلقین نے شرکت کی۔پروفیسر مرزا نے میڈیا کو بیسویں صدی کا اکیسوی صدی کے لئے سب سے قیمتی تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام شراکت داروں کو اَساتذہ کی طرف سے اُٹھائے گئے کام کی اہمیت کو سمجھنے کے لئے اُن کی محنت کی تائید کرنی چاہیئے۔اُنہوں نے کہا کہ میگزین اور نیوز لیٹر نکالنے کے کلچر کو نہ صرف تعلیمی اِداروں میں تجدید کیا جانا چاہیئے بلکہ ٹیکنالوجی کی جدید ترین شکلوں بشمول سوشل میڈیا ، پوڈ کاسٹ ، ویڈیو کاسٹ کے ذریعے اَچھی طرح سے تعاون کیا جانا چاہیئے۔ڈاکٹر روحیلہ حسن نے ریڈیو پروگراموں کے ذریعے تعلیم میںمدد کرنے پر اَساتذہ کی تعریف کرتے ہوئے ریڈیو کی تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اُنہوں نے شُرکأ پر زور دیا کہ وہ تعلیمی میدان میں ٹیلی ویژن ، ریڈیو اور اِنٹرنیٹ کے اِستعمال سے متعلق بنیادی صلاحیتیں حاصل کریں۔اُنہوں نے کہا،’’ ریڈیو اِتنا ہی اہم ذریعہ ہے جتنا کہ دوسرے ذرائع ابلاغ بیداری پیدا کرنے کے لئے بالخصوص دُوردراز مقامات تک جہاں اِنٹرنیٹ کنکٹوٹی ایک مسئلہ ہے۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا کہ زلزلے اور سیلاب جیسی آفاتِ سماوی کے دوران ریڈیو پر اِنحصار کرنے کا واحد ذریعہ بن جاتا ہے ۔پروفیسر ناصر مرزا ’’ من کی بات‘‘ کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر حسن کے اِس عوے کی تائید کی کہ ریڈیو مواصلات کی تمام جدید ترین ٹیکنالوجیوں کی دستیابی کے باوجود ایک اہم کردار اَدا کررہا ہے۔ورکشا پ میں ایک سیگمنٹ تھا جس میں ایک پینل ڈسکشن کا اہتمام کیا گیا تھا ۔ایس ایس پی ٹریفک سری نگر مظفر احمد شاہ ، سینئر اکیڈمک آفیسر ایس سی ای آر ٹ ڈاکٹر رابعہ مغل ، ورکشاپ کے کوآرڈی نیٹر فاروق شاہ ، اِنچارج ریڈیو پروگرام ایس سی اِی آر ٹی جاوید کرمانی ، سربراہان ایجوکیشن ا،ن لنگویجز ڈاکٹر شبنم نے اِ س بارے میں بات کی۔بحث میں کچھ شرکاء نے شہر کی ٹریفک منظر نامے پرگفتگو کو اپنے موبائل فون پر فلمایا جبکہ دوسروں نے اپنی ڈائریوں پر نوٹ لکھے۔کوآرڈی نیٹر نے 5Ws1Hاور اِن واٹیڈ پیرا مڈ سکیم کی روشنی میں وضاحت کرتے ہوئے خبروں کے مضامین کو براہِ راست اَپنے ماخذ سے سکرین کیا۔بعد میں کوآرڈی نیٹر نے صحافت کی لغت میں تمام اَصطلاحات کی وَضاحت کی۔ظریف احمد ظریف جو کہ اِختتامی تقریب کے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے موجود تھے ، نے کہا کہ اَساتذہ کو اَپنی فطرت کو سچائی ، دیانت اور معروضیت کے اَوصاف سے آراستہ کرنا ہے۔اُنہوں نے کہا یہ تمام خوبیاں سچائی ، ایمانداری اور معروضیت صحافت کی پہچان ہیں او رتعلیم کے بارے میں رِپورٹنگ کرتے وقت ان کو نہیں چھوڑنا چاہیئے۔