سرینگر//امامیہ فیڈریشن کشمیر کے ترجمان نے میر واعظ کشمیر ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی چار سال سے زاید عرصہ کی نظر بندی کے بعد رہای کا خیر مقدم کرتے ھوے حکومت کے فیصلے کو خوش آیندہ قرار دیا بیان میں کہا گیا جناب میرواعظ نہ صرف ایک قد آور عالمی شہرت کے حامل سیاسی رھنما ھیں بلکہ مسلمانان کشمیر کے سب سے بڑے مذہبی قاید بھی ہیں اور ان کی رہایی سے جموں کشمیر میں جاری کشیدہ سیاسی ماحول کو پر امن بنانے میں مدد ملے گی بیان میں کہاگیا کہ وقت اگیاھے کہ جموں کشمیر میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لے سب سے مل کر ایک نیے جذبے کے ساتھ مثبت اور نتیجہ خیز کوششوں کا اغاز کیا جاےء بیان میں کہا گیا کہ میرواعظ صاحب کی رہایی پر عوامی رد عمل تمام سیاسی قوتوں کے لےءچشم کشا ھے اور ضرورت اس امر کی ھے کہ کشمیر اور کشمیر سے باھر کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید سیاسی قیدیوں کی رہایی کے ضمن میں اقدامات اٹھاےء جاییں تاکہ امن خوشحالی اور استحکامت کی جانب قدم بڑھاے جاییں ترجمان نے ملک کی پارلیمنٹ میں ایک بی جی پی ممبر پارلیمنٹ شری رمیش بدوری کی جانب سے ایک مخصوص طبقے کے ممبر پارلیمنٹ کے خلاف غیر مہذبانہ زبان استعمال کرنے کی مذمت کرتے ھوےء اس طرح کے طرز تکلم کو بھارت کی شاندار پارلیمانی روایات پر بدنما دھبہ قرار دیا ہے اور کہا کہ ملک کے اعلی ترین قانوں ساز ادارے میں بیٹھ کر اس طرح کی روایات کو قایم کرنے کی کوششوں پر قدغن عاید کی جانی چاھے










