مختلف عالمی رہنماؤں کو روایتی دستکاری اور علاقائی تحائف پیش
سرینگر// یو این ایس// وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ پانچ ملکی دورے کے دوران مختلف عالمی رہنماؤں کو پیش کئے گئے خصوصی تحائف نے ہندوستان کی متنوع تہذیب، دستکاری، روایتی فنون اور ثقافتی ورثے کو عالمی سطح پر ایک نئی شناخت بخشی ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے دورہ متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کے دوران عالمی رہنماؤں کو ہندوستان کے مختلف خطوں کی نایاب اور روایتی اشیا تحفے میں پیش کیں، جنہیں ہندوستان کی ثقافتی سفارت کاری کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔یو این ایس کے مطابق اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کو آسام کی مشہور ‘‘موگا سلک’’ شال تحفے میں دی گئی، جسے ‘‘سنہری ریشم’’ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ نایاب ریشم اپنی قدرتی سنہری چمک اور خوبصورتی کی وجہ سے دنیا بھر میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انہیں منی پور کے مشہور شیروئی للی سے متاثر سلک اسٹول بھی پیش کیا گیا، جو وہاں کے تانگکھل ناگا سماج کی ثقافتی شناخت اور فخر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔اٹلی کے صدر سرگیو میٹرالالی کو آگرہ کی مشہور سنگِ مرمر جڑاؤ کاری پر مشتمل ایک خوبصورت بکس پیش کیا گیا جس کے ساتھ ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے عظیم فنکار پنڈت بھیم سین جوشی اور ایم ایس سبلکشمی کی موسیقی بھی شامل تھی۔نیدرلینڈز کے بادشاہ ولیم الیکذنڈرکو جے پور کی مشہور بلیو پاٹری پیش کی گئی جبکہ ملکہ ماکسیما کو راجستھان کی روایتی ‘‘میناکاری’’ اور ‘‘کندن’’ زیورات تحفے میں دئیے گئے۔ نیدرلینڈز کے وزیر اعظم روب جیٹن کو مچھلی کے نقش والی مدھوبنی پینٹنگ پیش کی گئی، جو بہار کی قدیم لوک آرٹ روایت کا حسین نمونہ ہے۔سویڈن کے وزیر اعظم ا؛ف کرسٹر سن کو لداخ کی خالص اون سے تیار کردہ شال، لوکتک چائے اور شانتی نکیتن طرز کا ہاتھ سے تیار کردہ بیگ تحفے میں دیا گیا۔ ناروے کے وزیر اعظم جانس گھر سٹورکو سکم کے نایاب آرکڈ پھولوں سے تیار کردہ آرٹ ورک جبکہ ناروے کے بادشاہ ہیرلاڈ وی کو اڈیشہ کی چاندی کی تارکاسی سے تیار کردہ کشتی کا ماڈل پیش کیا گیا۔متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زید النہیان کو گجرات کی مشہور روگن پینٹنگ، کیسر آم اور میگھالیہ کے اعلیٰ معیار کے انناس تحفے میں دئیے گئے۔ اس کے علاوہ یو اے ای کے ولی عہد کو کوفت گری کاری سے مزین خنجر اور متھیلا مکھانہ پیش کیا گیا جبکہ یو اے ای کی ملکہ مادر کو مہیشوری ریشمی کپڑا اور منی پور کا مشہور ‘‘کالا چاول’’ تحفے میں دیا گیا۔یو این ایس کے مطابق آئس لینڈ کی وزیر اعظم کرسٹرن فراسٹڈوٹیرکو شیرپا تینزنگ نورگے کے استعمال کردہ تاریخی آئس ایکس کی نقل پیش کی گئی، جو 1953 میں ماؤنٹ ایورسٹ کی پہلی کامیاب مہم کی یادگار سمجھی جاتی ہے۔فن لینڈ کے وزیر اعظم پیٹری آرپوکو راجستھان کی مشہور ‘‘کمل تلائی پچھوائی’’ پینٹنگ جبکہ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن کو دکن کی روایتی ‘‘بیدری’’ چاندی کاری کا خوبصورت گلدان پیش کیا گیا۔اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیوکو ہندوستان کے مختلف علاقوں کے مشہور چاولوں کی اقسام، جن میں باسمتی، جوہا، کالا نمک اور گوبندو بھوگ شامل ہیں، کے ساتھ صحت بخش ملیٹ بارز بھی تحفے میں دئیے گئے۔حکام کے مطابق وزیر اعظم مودی کے یہ تحائف محض رسمی سفارتی تحائف نہیں بلکہ ہندوستان کی قدیم تہذیب، دستکاری، زرعی تنوع، ثقافتی ورثے اور ‘‘ایک بھارت، شریشٹھ بھارت’’ کے تصور کی بھرپور نمائندگی کرتے ہیں۔










