منی لانڈرنگ کیس :علیحدگی پسند لیڈرشبیراحمد شاہ کے مکان کی عارضی قرقی

تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر مکان کومنسلک کیا:ED

سری نگر // انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے جمعہ کو کہا کہ اس نے جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کے سری نگر کے مکان کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کو ہوا دینے کے معاملے سے منسلک منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر منسلک یاعارضی طورپرقرق کیا ہے۔جے کے این ایس کے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے حکام نے نئی دہلی میں بتایا کہ علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ کا یہ مکان، جس کی مالیت21.80 لاکھ روپے ہے، سری نگر کے برزلہ پولیس اسٹیشن کے علاقے میں واقع بوٹ شاہ کالونیصنعت نگر میں واقع ہے ۔شبیر شاہ کیخلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے 30مئی 2017 میں لشکر طیبہ کے سربراہ حافظ سعید اور دیگرافراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی مختلف دفعات کے تحت درج کی گئی ایف آئی آر سے نکلا ہے۔ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بتایاکہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ شبیر احمد شاہ کشمیروادی میں پتھراؤ، جلوس، احتجاج، بند، ہرتال اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے ذریعے وادی کشمیر میں بدامنی کو ہوا دینے کی سرگرمیوں میں سرگرم عمل تھا۔ایجنسی کے مطابق مذکورہ کشمیری علیحدگی پسند لیڈر دہشت گرد تنظیم حزب المجاہدین اور پاکستان میں مقیم دیگر دہشت گرد تنظیموں کیساتھ ساتھ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے حوالات اور دیگر ذرائع وچینلوں سے فنڈز حاصل کرنے میں ملوث تھا اور یہ رقوم اس وقت کشمیرمیں بدامنی پھیلانے کیساتھ کشمیرمیںملی ٹنسی کی سرگرمیوںکوبڑھاوادینے کیلئے استعمال کی جاتی تھیں۔