معمولی بارشوں کے بعدسڑکیں اورگلی کوچے بنے تالاب،کوئی ڈرنیج سسٹم نہیں
کرالہ گنڈ//سرحدی ضلع کپوارہ کے منڈی گام کرالہ گنڈ علاقہ کی حالت معمولی بارشوںکے بعدایسی ہوجاتی ہے کہ سڑکیں اورگلی کوچے کیچڑ سے بھرجاتے ہیں ۔ان گندی سڑکوں اورگلیوں سے گزرنے والے ہر شخص کے کپڑے کیچڑ سے گندے ہوجاتے ہیں اورجوتوں کی حالت بھی بگڑ جاتی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق مقامی لوگوںنے بتایاکہ اتوار اورپیرکی درمیانی رات ہونے والی بارشوں کے بعد پیر کی صبح گائوںکی سڑکیں اورگلی کوچے تالابوںکامنظر پیش کررہی تھیں جبکہ کوئی ڈرنیج سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے گھروںکے صحنوں اورحتیٰ کہ مکانات کے دروازوں پر اتنا پانی جمع ہواتھاکہ لوگ گھروں سے باہر نہیں نکل پائے ۔مقامی نوجوان ابرارالحق نے بتایاکہ جب وہ پیرکی صبح نیندسے جاگا،اور نماز فجر کیلئے مسجد جانے لگا تو گھر کے دروازے پر کافی پانی جمع ہوا تھا۔انہوںنے کہاکہ ہمارے گھر سے جامع مسجدتک کافاصلہ تقریباً200میٹر ہے ،اوریہ پوری سڑک پانی اورکیچڑ سے بھری ہوئی تھی جبکہ گائوںکی دیگرسڑکوں اورگلی کوچوںکی حالت بھی اسے کچھ مختلف نہیں تھی ۔ایک مقامی لڑکی کاکہناتھاکہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ ہم زمانہ قدیم یاپتھر کے زمانے میں رہتے ہیں ،کیونکہ ہمارے گائوںمیں گلی کوچے ٹوٹے پھوٹے ،نالیاں گندگی سے بھری پڑیں ،پانی کی نکاسی کیلئے کوئی ڈرنیج سسٹم نہیں ،پانی اوربجلی کی فراہمی بھی برائے نام ہوتی ہے ۔ابرار اورمقامی لڑکی نے بتایاکہ گھروں سے نکلتے ہی جوتے کپڑے گندے ہوجاتے ہیں۔کیچڑ اتنا زیادہ ہوتاہے کہ سنبھل سنبھل کر چلنے کے باوجود جوتوں اورکپڑوں میں کیچڑکے چھینٹوں سے بھرجاتے ہیں۔انہوںنے کہا سنا ہے کہ ڈی ڈی سی چیئرمین کپوارہ عرفان پنڈت پوری صاحب نے دیہی علاقوںمیں بنیادی شہری سہولیات کی جانب توجہ رکھی ہے لیکن منڈی گام شاید موصوف کی نظروں سے ابھی تک اوجھل ہے ۔منڈی گام کرالہ گنڈ کے دیگر کئی لوگوںنے بتایاکہ ہم نے سڑکوں اورگلی کوچوں کی زبوں حالی نیز دیگر مشکلات بشمول پانی وبجلی کی عدم دستیابی کامعاملہ بارہا حکام اورمنتخب نمائندوںکی نوٹس میں لایا لیکن آج تک ہماری کوئی دادرسی نہیں کی گئی ۔










