‘صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کیلئے اس وقت کی کانگریس حکومت نے ہر جمہوری اصول کو نظر انداز کیا / وزیر اعظم مودی
سرینگر // ایمرجنسی کے تاریک دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح کانگریس پارٹی نے بنیادی آزادیوں کو سلب کیا کی بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ کرنے والوں کو ہمارے آئین سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے لاتعداد مواقع پر دفعہ356 نافذ کیا، آزادی صحافت کو تباہ کرنے کا بل حاصل کیا، وفاقیت کو تباہ کیا اور آئین کے ہر پہلو کی خلاف ورزی کی۔سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ کی 50 ویں سالگرہ کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے کانگریس پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایمرجنسی کے سیاہ دن یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح کانگریس پارٹی نے ہندوستان کے آئین کو پامال کیا۔ایکس پر انہوں نے لکھا ’’ ایمرجنسی نافذ کرنے والوں کو ہمارے آئین سے اپنی محبت کا اظہار کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے لاتعداد مواقع پر آرٹیکل 356 نافذ کیا، آزادی صحافت کو تباہ کرنے کا بل حاصل کیا، وفاقیت کو تباہ کیا اور آئین کے ہر پہلو کی خلاف ورزی کی‘‘۔وزیر اعظم نریندر مودی نے لکھا ’’آج کا دن ان تمام عظیم مردوں اور عورتوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کا ہے جنہوں نے ایمرجنسی کا مقابلہ کیا۔ ایمرجنسی کے سیاہ دن ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ کس طرح کانگریس پارٹی نے بنیادی آزادیوں کو سلب کیا اور ہندوستان کے آئین کو پامال کیا، جس کا ہر ہندوستانی بہت احترام کرتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے اس وقت کی کانگریس حکومت نے ہر جمہوری اصول کو نظر انداز کیا۔انہوں نے مزید کہا’’’صرف اقتدار سے چمٹے رہنے کیلئے اس وقت کی کانگریس حکومت نے ہر جمہوری اصول کو نظر انداز کیا اور ملک کو جیل میں ڈال دیا۔ جو بھی شخص کانگریس سے اختلاف کرتا تھا اسے تشدد اور ہراساں کیا جاتا تھا۔ کمزور ترین طبقات کو نشانہ بنانے کیلئے سماجی طور پر رجعت پسندانہ پالیسیاں چلائی گئیں‘‘۔وزیر اعظم مودی نے کانگریس پر مزید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عوام نے انہیں بار بار مسترد کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ایمرجنسی کے نفاذ کا باعث بننے والی ذہنیت اسی پارٹی میں بہت زیادہ زندہ ہے جس نے اسے نافذ کیا تھا۔ وہ آئین کے تئیں اپنی نفرت کو اپنی نشانی کے ذریعے چھپاتے ہیں، لیکن ہندوستان کے لوگوں نے ان کی حرکات کو دیکھا ہے، اور اسی وجہ سے انہوں نے انہیں بار بار مسترد کیا ہے‘‘۔










