bhook

ملک میں بے روزگاری سب سے بڑا چیلنج :تازہ شرح7.77فیصد

سری نگر //ملک میں بے روز گاری کی شرح کے معاملے میں جموں وکشمیر تیسرے نمبر پر ہے جبکہ ماہ ستمبر کے مقابلے میںرواں ماہ ابتک بے روزگاری کی شرح میں اضافہ درج کیاگیاہے ۔جے کے این ایس کے مطابق بے روزگاری کے معاملے میں ہریانہ کاپہلا نمبر ہے جبکہ راجستھان دوسرے اورجموں وکشمیر تیسرے پائیدان پر موجود ہے ۔سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMEI) کے تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماہ اکتوبر میں ملک کی بے روزگاری کی شرح ستمبر میں6.43 فیصد سے بڑھ کر7.77 فیصد ہو گئی۔CMEIکے مطابق ملک کی 25 ریاستوں میں سے 6ریاستوں میں اکتوبر کے مہینے میں دوہرے ہندسے کی بے روزگاری کی شرح ریکارڈکی گئی۔ سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے اعدادوشمات بتاتے ہیںکہ مرکز کے زیرانتظام علاقے جموں و کشمیر میں بے روزگاری کی شرح22.4فیصد، ہریانہ میں31.8فیصد، راجستھان میں30.7فیصد، جھارکھنڈ میں16.5، بہار میں بے روزگاری کی شرح14.5فیصد اورتری پورہ میں میں بے روزگاری کی شرح10.5فیصدہے ۔سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (SMEI) کے سب سے کم بے روزگاری کی شرح مدھیہ پردیش میں ریکارڈ کی گئی، جہاں یہ شرح0.9فیصد تھی، اس کے بعد چھتیس گڑھ میں0.9فیصد اورریاست گجرات میں بے روزگاری کی مجموعی شرح1.7فیصد ہے۔CMEI کے اعداد و شمار کے مطابق، دیہی بے روزگاری کی شرح ستمبر میں5.84 فیصد سے بڑھ کر اکتوبر میں 8.04 فیصد ہو گئی۔ جب کہ شہری بے روزگاری کی شرح ستمبر میں 7.7 فیصد سے کم ہو کر اکتوبر میں 7.21فیصد ریکارڈ کی گئی۔سنٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی (CMEI) کی ویب سائٹ پردستیاب تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماہ نومبرکی3تاریخ کوملک میں بے روزگاری کی مجموعی شرح 7.8فیصد تھی۔دیہی علاقوںمیں یہ شرح 7.9اورشہری علاقوںمیں 7.4فیصد تھی ۔