معاشرے میں ریبیز کے اَثرات سے نمٹنے کیلئے تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے ۔ مشیر راجیو رائے بھٹناگر
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے کہا کہ کہ معاشرے میں ریبیز کے اَثرات سے نمٹنے کے لئے سرکاری ایجنسیوں ، ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں ، جانوروں کے ڈاکٹروں اور عوام سمیت تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اِن باتوں کا اِظہار مشیر موصوف نے آج شیر کشمیر اِنٹرنیشنل کنونشن سینٹر ( ایس کے آئی سی سی ) میں’’ ورلڈ ریبیز ڈے۔2023ء کے پس منظر میں منعقدہ ایک روزہ تکنیکی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اِس موقعہ پر سیکرٹری محکمہ زرعی پیداوار شبنم کاملی ،ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری جموں شبر ا شرما، ڈائریکٹر اینمل ہسبنڈری کشمیر پورنیما متل ، جوائنٹ ڈائریکٹران ،ویٹرنریرین اور دیگر شراکت دار موجود تھے ۔مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ریبیز کے تباہ کن اثرات، روکتھام اور کنٹرول کے اقدامات کی اہمیت کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا ایک منفرد پلیٹ فارم ہے۔ اُنہوں نے اِس خوفناک بیماری کے اثرات سے نمٹنے کے لئے حکومتی اداروں،ہیلتھ کیئر فراہم کرنے والوں ،ویٹرنریرین اور عوام سمیت تمام شراکت داروں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔اُنہوں نے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ ہم آہنگی سے کام کریں تاکہ ریبیز کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ اُنہوں نے کہا کہ ریبیز سے بچاؤ کے بارے میں لوگوں میں زیادہ سے زیادہ بیداری پیدا کرنے کے لئے تعلیمی اِداروں اور دیگر عوامی اہمیت کے حامل مقامات سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے شرکأ سے کہا کہ وہ ریبیز کی روکتھام اور بچائو میں ہونے والی تازہ ترین پیش رفت سے لوگوں کو آگاہ کریں ۔ اِس مہلک بیماری سے نمٹنے کے لئے ویکسیی نیشن مہم اور بیداری پروگراموں کااِنعقاد کریں۔اُنہوں نے مزید کہا کہ وہ سکولی نصاب میں ویٹرنری سائنس کے بعض پہلوئوں کو شامل کرنے کی فزیبلٹی کا مطالبہ کریں تاکہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی جانوروں کی صحت اور حفظانِ صحت کے بارے میں آگاہ کی جاسکے ۔لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر راجیو رائے بھٹناگر نے جموں و کشمیر اِنتظامیہ کی مختلف کامیابیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں گزشتہ چار برسوں سے قابل ذِکر تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر ملک میں شہریوں کو ڈیجیٹل خدمات فراہم کرنے میں پہلے نمبر پر ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ جموں و کشمیر سٹیٹ ہیلتھ ایجنسی کو حال ہی میں ملک بھر میں نمبر وَن ہیلتھ ایجنسی کا درجہ دیا گیا ہے۔مشیر موصوف نے اِس کانفرنس کے اِنعقاد کے لئے منتظمین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس مختلف شعبوں کے شراکت داروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی تاکہ وہ علم کا اِشتراک کرنے ، ریبیز سے نمٹنے اور اِنسانی اور جانوروں کی صحت کے تحفظ کی کوششوں میں تعاون کرسکیں۔اِس موقعہ پر شبنم کاملی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ویٹرنریرین کے لئے ایک ساز گار ماحول قائم کرے گی تاکہ وہ خطے میں ریبیز سے نمٹنے کی تکنیکوں اور طریقوں پر تبادلہ خیال کرسکیں۔ اُنہوں نے تمام شرکاء پر زور دیا کہ وہ ایک ایسے مستقبل کے لئے مل کر کام کریں جہاں ریبیز اب انسانوں اور جانوروں کی آبادی کے لئے خطرہ نہ ہو۔کانفرنس کے دوران ریبیز کی روکتھام اور کنٹرول سے متعلق مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ویٹرنیریرین اور ماہرین نے کئی تکنیکی اور معلوماتی سیشنوں کا اِنعقاد کیا۔










