سرینگر / /چین کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر حالا ت قابو میں ہے کا دعویٰ کرتے ہوئے فوجی سربراہ لیفٹنٹ جنرل منوج پانڈے نے کہا کہ چین کے ساتھ بنیادی مسئلہ سرحد کا حل رہا ہے جس کو ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق فوجی سربراہ جنرل منوج پانڈے کا دو روزہ دورہ لداخ اختتام پذیر ہوا ۔ لیفٹنٹ جنرل منوج پانڈے سنیچروار کو دو روزہ دورے لداخ پر پہنچے تھے جس دوران انہوں نے وہاں پہلے روز لداخ میں زمینی آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا۔ اس موقعہ پر آرمی چیف کو مشرقی لداخ پر خصوصی توجہ کے ساتھ سرحدوں کے ساتھ ساتھ سیکورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ جبکہ فورسز کی طرف سے آپریشنل تیاری کی اعلیٰ سطح پر روشنی ڈالی گئی۔ان کے ہمراہ شمالی فوج کے کمانڈر لیفٹنٹ جنرل اپیندر دویدی اور 14 کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اے سین گپتا بھی شامل تھے ۔ آرمی چیف اپنے دورے کے دوران مشرقی لداخ کے آگے کے علاقوں کا دورہ بھی کیا ۔ اس موقعہ پر انہوں نے بتایا کہ ملک کو کافی در پردہ مسائل اور چیلنجوں کا سامنا ہے تاہم ان سب سے نمٹنے کیلئے فوج ہمیشہ تیار ہے اور کسی بھی صورتحال کو مقابلہ کرنے کیلئے تیاری کی حالت میں رہتے ہیں ۔ پاکستان اور چین کے ساتھ کے ساتھ لگنے والی سرحدوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آرمی چیف نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے سینئر فوجی کمانڈر مشرقی لداخ میں تناؤ کے خاتمے کے لئے طریق کار کو مستحکم کرنے کے لئے بات چیت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا ،کہ ہم کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لئے پرامید ہیں جو باہمی طور پر قابل قبول ہے اور پالیسی کی اہم رہنما خطوط پر عمل درآمد کرنے میں واقعی فائدہ مند ہے۔آرمی چیف نے یہ بھی کہا کہ مشرقی لداخ میں صورتحال کافی مستحکم ہے۔اونچائی والے خطے میں تعینات ہندوستانی فوجیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مناسب لباس اور ہتھیاروں سے لیس ہیں ، اور مزید کہا کہ اس میں کوئی کمی نہیں ہے۔










