مرکزی وزیر مملکت برائے قانون و انصاف کا کپواڑہ کا دورہ

کپواڑہ//قانون و انصاف کے مرکزی وزیر مملکت پروفیسر ایس پی سنگھ بگھیل نے آج کہا کہ یہ خوشی کی بات ہے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد کشمیر امن ، خوشحالی اور ترقی کے میدان میں کافی تبدیلی دیکھ رہا ہے ۔ مرکزی وزیر سرحدی ضلع کپواڑہ کے پبلک پارک لنگیٹ میں ایک عوامی سبھا سے خطاب کر رہے تھے ۔ چئیر مین ڈی ڈی سی کپواڑہ عرفان سلطان پنڈتپوری ، وائس چئیر مین ڈی ڈی سی حاجی فاروق احمد میر ، ڈپٹی کمشنر کپواڑہ ڈویفوڈ ساگر دتاترے ، ایڈیشنل سیکرٹری قانون ، اے ڈی سی ہندواڑہ ، اے ڈی سی کپواڑہ ، ڈی ڈی سی ممبران ، صدر ایم سی لنگیٹ ، بی ڈی سی چئیرپرسنز ، پی آر آئی کے علاوہ افسران اور بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے ۔ وزیر موصوف نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے مختلف ترقیاتی پروگراموں اور فلاحی اقدامات کی فہرست بنائی جنہیں لوگوں کو اپنی خوشحالی کیلئے یاد رکھنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئیے کہ جموں و کشمیر اس وقت تین درجے پنچائت راج نظام کے فوائد اٹھا رہا ہے انہوں نے مزید کہا کہ یہ مجموعی جمہوریت یہاں 70 سال پہلے ہونی چاہئیے تھی ۔ انہوں نے کہا کہ مقامی منتخب اراکین کی منصوبہ بندی اور خواہش کے مطابق پنچائتوں کی ترقی کیلئے بھاری فنڈز جاری کئے ہیں۔ سیاحت کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ کشمیر کا ہر گوشہ ہرا بھرا اور خوبصورت ہے اور کپواڑہ کا بنگس دنیا کے مشہور سیاحتی مقام کے طور پر ابھر رہا ہے ۔ وزیر موصوف نے ہندوستانی جمہوریت کے تاریخی پس منظر کا انکشاف کیا اور کہا کہ ہندوستان بدل رہا ہے اور ہر شہری کو اس ملک میں پورے فخر اور وقار اور ترقی کے یکساں مواقع کے ساتھ رہنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو 2 ممتاز میڈیکل کالجوں کی طرح ایمس ملا ہے انہوں نے مزید کہا کہ کپواڑہ ضلع کو ایک نیا ڈسٹرکٹ ہسپتال اور ایک میڈیکل کالج ملا ہے ۔ انہوں ے یقین دلایا کہ حکومت ہند جموں و کشمیر کے تمام اضلاع کے صحت کے بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کیلئے پر عزم ہے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وہ یہاں کے لوگوں کے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر خوشی محسوس کر رہے ہیںاور کہا کہ کچھ شرارتی عناصر کے علاوہ کشمیر کے لوگ شریف اور ایماندار ہیں ۔ اس موقع پر چئیر مین ڈی ڈی سی اور وائس چئیر مین ڈی ڈی سی نے بھی خطاب کیا ۔