متنازع کتابوں کا معاملہ، پولیس نے تحت مقدمہ درج کر لیا

علیحدگی پسندوں کی مبینہ تمجید پر چھاپے، دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط

سرینگر//جموں و کشمیر پولیس کے کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ نے دو متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند عناصر کی تمجید اور قابل اعتراض مواد کی اشاعت کے معاملے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) اور بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں ہفتہ کو ایک ناشر کے دفتر پر چھاپہ بھی مارا گیا، جہاں سے متعدد دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے۔یو این ایس کے مطابق پولیس حکام کے مطابق زیرِ تفتیش کتابوں میں ’پرسلٹیس ایند لیجنڈس آف جموں کشمیر‘شامل ہے، جسے ہلال احمد اور سنتوش مینا نے تحریر کیا ہے اور جموں کے اوبرائے بک سروس نے شائع کیا، جبکہ دوسری کتابگریٹ ’پرسلٹیس ایند لیجنڈس آف جموں کشمیر‘ ہے، جسے سشانت گیری نے تحریر کیا اور دہلی کے انوراگ پرکاشن نے شائع کیا۔یو این ایس کے مطابق حکام کے مطابق ایک کتاب کی 123 کاپیاں جموں، رام بن اور ادھم پور اضلاع میں فراہم کی گئی تھیں، جبکہ دوسری کتاب کی 128 کاپیاں جموں اور بارہمولہ اضلاع میں تقسیم کی گئی تھیں۔پولیس نے اس معاملے میں بھارتیہ نیائے سنہتا کی مختلف دفعات، جن میں مجرمانہ سازش، ملک کی خودمختاری، اتحاد اور سالمیت کو خطرے میں ڈالنے، فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے اور گمراہ کن مواد کی اشاعت سے متعلق دفعات شامل ہیں، کے علاوہ یو اے پی اے کی دفعہ 13 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا ہے۔مقدمہ درج ہونے کے بعد کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ نے جموں کے باہو پلازہ میں واقع ایک ناشر کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ حکام کے مطابق کارروائی کے دوران کیس سے متعلق اہم دستاویزات اور ڈیجیٹل شواہد ضبط کیے گئے ہیں، تاہم فی الحال کسی شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔یاد رہے کہ اس سے قبل جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہانے ان متنازع کتابوں میں مبینہ طور پر انتہائی نامناسب مواد شامل ہونے پر محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل، ایک کنٹریکچول ملازم کو برطرف اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے کے بعد محکمہ اسکولی تعلیم نے دونوں کتابوں کو تعلیمی اداروں سے واپس لینے کے احکامات بھی جاری کیے تھے۔