جنگلات میں اضافہ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم ایک اجتماعی فریضہ// وزیر اعظم نریندر مودی
سرینگر// یو این ایس// ماحولیات کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک اور دنیا بھر کے عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ماحولیات کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ اور پائیدار ترقی کے تئیں بھارت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ فطرت کا تحفظ محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل سے جڑا ہوا ایک اجتماعی فریضہ ہے، جس میں حکومتوں، اداروں اور عام شہریوں سبھی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد، تنظیموں اور رضاکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کا عالمی دن اس بات کا موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم قدرتی وسائل کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے لیے اپنے عزم کو مزید مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت کی متعدد پالیسیوں اور اقدامات نے ماحولیات کے تحفظ کے میدان میں اہم نتائج برآمد کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برسوں کے دوران سبز احاطے میں توسیع، جنگلاتی رقبے میں اضافے، آبی وسائل کے تحفظ، قابل تجدید توانائی کے فروغ اور جنگلی حیات کی بقا کے لیے متعدد اہم پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ماحولیاتی توازن کو مضبوط بنانے میں مدد ملی بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی پیش رفت ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ اجتماعی کوششیں، مضبوط پالیسیاں، سائنس اور ٹیکنالوجی پر یقین اور اختراعی سوچ ماحولیات کے تحفظ میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے حوالے سے عوامی بیداری میں اضافہ اور لوگوں کی فعال شمولیت نے مختلف حکومتی پروگراموں کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔نریندر مودی نے بھارت کی حیاتیاتی دولت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا متنوع ماحولیاتی نظام بے شمار حیاتیاتی انواع، قدرتی وسائل اور لاکھوں لوگوں کے روزگار کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمالیائی خطوں سے لے کر ساحلی علاقوں تک پھیلے ہوئے مختلف ماحولیاتی نظام نہ صرف قدرتی حسن کی علامت ہیں بلکہ معیشت اور انسانی زندگی کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔یو این ایس کے مطابق انہوں نے جنگلی حیات کے تحفظ کے شعبے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ گریٹ انڈین بسٹرڈ، برفانی چیتے، سلوتھ ریچھ اور چیتوں کے تحفظ کے لیے جاری پروگراموں نے حوصلہ افزا نتائج دیے ہیں۔ ان کے مطابق ان نایاب انواع کے تحفظ کے لیے اختیار کی گئی حکمت عملی اس بات کی مثال ہے کہ مستقل مزاجی اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے ذریعے ماحولیاتی نظام کو بحال کیا جا سکتا ہے۔وزیراعظم نے ’’ایک پیڑ ماں کے نام‘‘ مہم کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہم عوامی سطح پر ماحولیات کے تحفظ کی ایک منفرد مثال بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام نے لاکھوں لوگوں کو شجرکاری کی جانب راغب کیا ہے اور ہر سال جنگلاتی رقبے میں اضافے میں مدد فراہم کی ہے۔ ان کے مطابق درخت لگانا صرف ماحولیات کے تحفظ کا ذریعہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی تحفہ بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت ’’ایک کرہارض، ایک خاندان، ایک مستقبل‘‘ کے اصول پر عمل پیرا ہے اور اسی سوچ کے تحت مشن لائف کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ماحول دوست طرزِ زندگی کو عوامی تحریک میں تبدیل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ روزمرہ زندگی میں چھوٹی چھوٹی مثبت تبدیلیاں بھی ماحولیات کے تحفظ میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں۔وزیراعظم نے ماحولیات کے تحفظ کو بھارتی تہذیب، ثقافت اور روحانی روایات کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے ایک سنسکرت شلوک بھی شیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدیوں پرانی بھارتی روایات انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی تعلیم دیتی ہیں اور آج بھی یہی فلسفہ ماحولیاتی چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔دریں اثنا، وزیراعظم نے بین الاقوامی یومِ یوگا 2026 کے سلسلے میں بھی عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے یوگا کو صحت مند اور متوازن زندگی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ احمد آباد میں پہلی ورلڈ یوگاسن چیمپئن شپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یوگا آج دنیا بھر میں جسمانی اور ذہنی صحت کے فروغ کی ایک مؤثر تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جانب سے بین الاقوامی یومِ یوگا کو تسلیم کیے جانے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں یوگا کی مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور کروڑوں افراد اسے اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق یوگا نہ صرف بیماریوں سے بچاؤ میں مدد دیتا ہے بلکہ ذہنی سکون، جسمانی توازن اور مثبت طرزِ زندگی کو بھی فروغ دیتا ہے۔یو این ایس کے مطابق وزیراعظم نے بتایا کہ اس سال بین الاقوامی یومِ یوگا کا موضوع ’’صحت مند بڑھاپے کے لیے یوگا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا مقصد ہر عمر کے افراد کو فعال، صحت مند اور باوقار زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی عمر کی آبادی کے تناظر میں یوگا ایک ایسا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے جو صحت مند زندگی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔انہوں نے وزارت آیوش کی ’’یوگا 365‘‘ مہم کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوگا کو صرف ایک دن کی سرگرمی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے سال بھر کی عادت بنانا ضروری ہے۔ وزیراعظم نے عوام، تعلیمی اداروں، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد سے اپیل کی کہ وہ 21 جون کو بین الاقوامی یومِ یوگا کی تقریبات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور ایک صحت مند، مضبوط اور پائیدار معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔










