سر ی نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے ٹورسٹ ٹریڈ انٹرسٹ گلڈ جموں و کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ ’’ایتھیکل ٹوراِزم کنکلیو‘‘سے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسے سیاحتی ماڈل کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا جو ذمہ دار، دیرپا اور جامع ہو۔لیفٹیننٹ گورنر اپنے کلیدی خطاب میں کنکلیو کے منتظمین کو مُبار ک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کنکلیو سیاحت کو محض ایک صنعت نہیں بلکہ اخلاقی ذمہ داری کے طور پر دیکھنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کنکلیو کا موضوع ’’آج ذمہ داری، کل دیرپائی، سب کے لئے فائدہ‘‘ اس اِجتماعی فرض کی عکاسی کرتا ہے کہ قدرتی اور ثقافتی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ رکھا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں کشمیر کو تاریخی طور پر فطرت اور ثقافت کے درمیان منفرد ہم آہنگی کے لئے ’’زمین پر جنت‘‘ کے طور پر جانا جاتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر میں سیاحت کو اس ورثے کے جشن کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور اخلاقی سیاحت اس کے مستقبل کے لئے رہنما اصول ہونا چاہیے۔لیفٹیننٹ گورنر نے سیاحتی شعبے میں حالیہ برسوں کے دوران حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاحوں کی آمد ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا اعتماد بحال ہوا ہے، سرمایہ کاری میں اِضافہ ہوا ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں، تاہم اصل کامیابی صرف اعداد و شمار میں نہیں بلکہ اس بات میں ہے کہ خوشحالی مقامی کمیونٹیوںتک پہنچے اور سماجی شمولیت میں معاون ثابت ہو۔‘‘منوج سِنہانے کہا کہ’ ذمہ دارانہ سیاحت‘ کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہر سیاح خوشگوار یادیں لے کر واپس جائے جبکہ قدرتی وسائل بھی محفوظ اور خوشحال رہیں۔ اُنہوں نے جنگلات، جھیلوں اور دریاؤں کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ترقی اور تحفظ ماحول کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔اُنہوں نے شمولیتی ترقی کی اہمیت اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈل جھیل کے کشتی چلانے والے، پہاڑی راستوں پر خدمات انجام دینے والے ٹٹو مالکان، پشمینہ اور پیپر ماشی جیسے روایتی فنون سے وابستہ کاریگر نیز گریز اور بنگس میں ہوم سٹے چلانے والے کنبے بھی سیاحت کے سفر کے مساوی شراکت دار ہونے چاہئیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ منافع صرف بڑے کاروباری اِداروں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ سیاحت تمام متعلقہ افراد کو باعزت آمدنی، تربیت اور ترقی کے مواقع فراہم کرے تاکہ دیرپا ترقی ممکن ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ خوشحالی ہرگاؤں، ہر کنبے اور ہر شہری تک پہنچے۔اُنہوںنے تمام شراکت داروں پر زور دیا کہ کنکلیو میں ہونے والی بات چیت کو واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر جائزہ نظام کے ساتھ عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔ اُنہوں نے ماحول دوست ہوم سٹے اور ہوٹلوں کے لئے سرٹیفکیشن نظام متعارف کرنے، نوجوانوں کوفطرت اور ثقافت کے محافظ بنانے کے لئے جامع تربیتی پروگرام شروع کرنے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارموںکے ذریعے سیاحوں کو براہِ راست مقامی آبادی سے جوڑنے کی تجویز بھی پیش کی۔اِس موقعہ پرچیئرمین ٹورسٹ ٹریڈ انٹرسٹ گلڈ ظہور احمد کرنائی، وائس چانسلرکشمیر یونیورسٹی پروفیسر نیلوفر خان، وائس چانسلر اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پروفیسر شکیل احمد رومشو،صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ڈی آئی جی سینٹرل کشمیر رینج راجیو پانڈے، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، ضلع ترقیاتی کمشنر کمشنر سری نگر اکشے لابرو، صنعتی شعبے کے قائدین، مختلف کاروباری تنظیموں کے سربراہان، ٹورسٹ ٹریڈ انٹرسٹ گلڈ کے ممبران اور معاشرے کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ممتاز شہری موجود تھے۔










