لیفٹیننٹ گورنر نے چند ن واڑی میں زمینی صورتحال اور یاتریوں کی سہولیات کاجائزہ لیا

لیفٹیننٹ گورنر نے چند ن واڑی میں زمینی صورتحال اور یاتریوں کی سہولیات کاجائزہ لیا

لیفٹیننٹ گورنر نے بیس ہسپتال چندن واڑی میں یاتریوں کیلئے طبی اِنتظامات کا بھی معائینہ کیا

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے چندن واڑی کا دورہ کیا اورشری امرناتھ جی یاترا کو بلا تعطل جاری رکھنے کو یقینی بنانے کے لئے کیمپ میں زمینی صورتحال اوریاتریوںکی سہولیات کا جائزہ لیا۔اُنہوںنے موقعہ پر موجود اَفسران، یاتریوں، رضاکاروں، لنگر سیواداروں اور دیگر خدمات فراہم کرنے والوں سے بات چیت کی ۔اُنہوں نے یاترا کی اِنتظامی ٹیموں کو ہدایت دی کہ وہ یاتریوں کے تاثرات کاجائزہ لیں اور چوبیس گھنٹے مدد کے لئے دستیاب رہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’ہم حکومت کے تمام متعلقہ محکموں کی مربوط اور مؤثر کاوشوں کے ذریعے بھگوان شیو کے عقیدت مندوں کو بہترین رہائش اور معیاری طعام کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر یاتری کو بابا برفانی کے درشن نصیب ہوں اور گہرا روحانی تجربہ حاصل ہو۔‘‘ دورے کے دوران اُنہوں نے یاتریوں کے لئے طبی سہولیات کا جائزہ لینے کے لئے چندن واڑی میں بیس ہسپتال کا معائینہ کیا۔ اُنہوں نے وارڈوں، لیبارٹریوں اور ایمرجنسی یونٹوں کا دورہ کیا اور مریضوں سے بات چیت کی تاکہ ان کی خیریت اور علاج کے معیار کا پتہ چل سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل عملے اور دیگر طبی کارکنوں کی لگن اور فرض شناسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ یاتریوں کو معیاری طبی خدمات فراہم کرنے میں اہم کردار اَدا کر رہے ہیں۔اِس موقعہ پر انہیں بتایا گیا کہ ہسپتال میں اَدویات اور ضروری طبی آلات کا وافر ذخیرہ موجود ہے جبکہ ماہر ڈاکٹروں، نرسنگ سٹاف اور پیرا میڈیکل عملے کو فوری طبی امداد کی فراہمی کے لئے تعینات کیا گیا ہے۔ تمام یاتریوں، خدمات انجام دینے والے اَفراد اور معاون عملے کو روزانہ جامع طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ او پی ڈی میں یومیہ اوسطاً 2,500 مریضوں کا معائینہ کیا جا رہا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا،’’میں نے گزشتہ چار برسوں سے یاترا کی مسلسل نگرانی کرتے ہوئے اس برس یاتریوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ، شری امرناتھ جی شرائین بورڈ اور تمام شراکت داروں نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کہیں بہتر اِنتظامات کئے ہیں۔تاہم، اس وقت غیر رجسٹرڈ یاتریوں کی بڑی تعداد بھی پہنچ رہی ہے۔ میں ان تمام عقیدت مندوں سے اپیل کرتا ہوں جنہوں نے پیشگی رجسٹریشن نہیںکی کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور اپنی باری کا انتظار کریں۔ ان کا تعاون یاترا کے پْرامن اور احسن اِنعقاد کے لئے نہایت ضروری ہے۔ براہِ کرم یاد رکھیں کہ چندن واڑی اور بال تل دونوں راستوں پر روزانہ یاتریوں کی مقررہ حد سختی سے نافذ ہے اور اس میں اضافہ ممکن نہیں۔ ان ضوابط پر عمل کرنا ہر ایک کی سلامتی اور بغیر کسی دشواری کے یاترا کی تکمیل کے لئے ناگزیر ہے۔یاتریوں کی مدد کے لئے چندن واڑی میں 100 بستروں پر مشتمل ہسپتال گزشتہ دو برسوں سے فعال ہے جو صحت کی اہم خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اسی دوران تمام محکموں کے افسران اور ملازمین شب و روز محنت کر رہے ہیں تاکہ ہر یاتری کو محفوظ، آرام دہ اور بلا رکاوٹ سفر کی سہولیت میسر آ سکے۔‘‘