کہا، یہ سنگ میل اہم پیش رفت کی علامت ہے لیکن ہمارا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا
سری نگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے محکمہ سماجی بہبود کی طرف سے ’’منشیات سے پاک جموں و کشمیر مہم‘‘کے 100 دن کی کامیاب تکمیل کی یاد میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کیا۔اُنہوں نے کہا کہ اگر چہ یہ ایک اہم سنگ میل ہے تاہم ہمارا مشن ابھی مکمل نہیں ہوا۔اُنہوں نے کہا،’’ہم منشیات کے کارٹلز او رنارکوٹیر ر نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کرنے کے لئے پُرعزم ہیں جو ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ہم غیر قانونی منشیات کی سمگلنگ کے ماحولیاتی نظام کو ختم کرنے، عوامی بیداری بڑھانے اور متاثرہ اَفرادکو معاشرے میں واپس شامل کرنے کے لئے مضبوط بحالی فراہم کرنے کی اَپنی بنیادی ترجیحات کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ مہم کے پہلے 100 دنوں نے آئندہ سخت جدوجہد کی بنیاد رکھ دی ہے۔ اگرچہ آگے کا سفر مشکل ہوگا لیکن نارکو دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ہمارا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ 100 روزہ مہم کے دوران اُنہوں نے یونین ٹیرٹیری کے تمام 20 اضلاع میں ’پدیاترا ‘کے ذریعے لوگوںسے روبرو رابطہ قائم کیا اور اس دوران ایسے بے شمار والدین سے ملاقات کی جو اَپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید فکرمند تھے۔اُنہوں نے کہا،’’متاثرہ کنبوںکے ساتھ کھڑے ہو کر میں نے ان کے دُکھ اور کرب کو قریب سے محسوس کیا لیکن اسی کے ساتھ مجھے اُمید کی وہ کرن بھی دِکھائی دی کہ ہمارے نوجوان نشے کی لت سے نجات حاصل کر کے دوبارہ اَپنی زِندگی سنوار سکتے ہیں۔ اس’ پدیاترا ‘کے دوران میں نے درد بھی دیکھا اور حوصلہ بھی، مایوسی بھی دیکھی اور اُمید بھی۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس مہم کو جو عوامی حمایت حاصل ہوئی، اس کی مثال جموں و کشمیر کی تاریخ میں نہیں ملتی۔‘‘منوج سِنہا نے کہا کہ ہر ضلع میں ’ پدیاترا ‘نے واضح پیغام دیا کہ نوجوانوں کا مستقبل کسی صورت میںبرباد نہیں ہونے دیا جائے گا اور گزشتہ 100 دِنوں کے دوران اس عزم کو عملی اقدامات سے ثابت کیا گیا۔اُنہوں نے کہا کہ2,581 منشیات فروش گرفتار کئے گئے۔1,431 کلوگرام سے زائد منشیات جن میں 23.29 کلوگرام ہیروئن بھی شامل ہے، ضبط کی گئی۔نارکو دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لئے 188.89 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثے ضبط کئے گئے۔اُنہوں نے مزید کہا ،’’سینکڑوں ڈرائیونگ لائسنس اور گاڑیوں کی رجسٹریشن منسوخ کی گئیں، متعدد پاسپورٹ معطل کرنے کی سفارش کی گئی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی فارمیسیوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ اس سے واضح پیغام گیا ہے کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہزاروں نوجوانوں کا علاج کیا گیا اور وہ اَب دوبارہ معمول کی زِندگی کی طرف لوٹ رہے ہیں۔‘‘لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ بحالی کا عمل نہ صرف اَفراد کی زندگیاں بدلتا ہے بلکہ کنبوں کو بھی جوڑتا ہے اور معاشرے کے مستقبل کو محفوظ بناتا ہے۔اُنہوں نے کہا کہ اِنتظامیہ جلد ہی’’منشیات سے متاثرہ اَفراد کی بحالی اور سماجی و معاشی انضمام سکیم 2026 ‘‘ شروع کرے گی جس کا اِبتدائی مرحلہ جموں اور کشمیر صوبے کے دو حساس اضلاع میں بطور پائلٹ منصوبہ عملایاجائے گا۔اُنہوں نے مشاہدہ کیا کہ تین سالہ مرحلہ وار پروگرام کے تحت:مرحلہ اوّل میں طبی علاج اور نفسیاتی مشاورت، مرحلہ دوم میں تعلیم اور روزگارجبکہ مرحلہ سوم میں دوبارہ نشے کی طرف رُجحان روکنے اور سماجی تعاون پر توجہ دِی جائے گی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’گزشتہ100 دنوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں میں ایک نئی بیداری پیدا کی ہے۔لوگوں کے تعاون سے نارکو دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور اس کے نیٹ ورکس کو ایک ایک کڑی توڑ کر ختم کیا جائے گا۔ منشیات فروشوں نے جس بنیاد پر اَپنی سلطنت قائم کی تھی، اسے مکمل طور پر تباہ کیاجائے گا ،جن لوگوں نے ہمارے نوجوانوں کا مستقبل برباد کیا ہے، انہیں ایسی سخت سزا دی جائے گی جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔‘‘اُنہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ منشیات کے خلاف آواز بلند کریں اور حکومت کا ساتھ دیں۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا،’’ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں منشیات کی سرگرمیوں کی اطلاع دے اور نشے سے متاثرہ اَفراد کی بحالی میں مدد کرے۔ اگر آپ کے آس پاس کوئی شخص اس لت میں مبتلا ہے تو اسے تنہا نہ چھوڑیں بلکہ علاج اور نئی زِندگی کی طرف رہنمائی کریں۔ ایسے نوجوان مجرم نہیں بلکہ حالات کا شکار ہیں، اس لئے انہیں معاشرے کی ہمدردی، اعتماد اور تعاون کی ضرورت ہے۔‘‘اُنہوں نے مزید کہا کہ حکومت مزید بحالی مراکز قائم کر رہی ہے، مشاورتی خدمات کو مضبوط بنایا جا رہا ہے اور بحالی مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لئے ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بھی فراہم لئے جا رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا،’’اَپنے خوابوں کو منشیات کی نذر نہ ہونے دیں۔ کسی منشیات فروش کو اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار نہ دیں۔ اپنی توانائی کو تعمیر، اپنی صلاحیتوں کو تخلیق اور اپنے حوصلے کو ترقی کے لیے استعمال کریں۔ اپنی تہذیب، ثقافت اور شناخت پر فخر کریں اور روشن مستقبل کی جانب اعتماد کے ساتھ قدم بڑھائیں۔‘‘انہوں نے والدین سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں میں منشیات کے استعمال کی کسی بھی علامت کو ہرگز نظر انداز نہ کریں اور بروقت مدد حاصل کریں۔اُنہوں نے اساتذہ، مذہبی رہنماؤں اور سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ گزشتہ 100 دنوں کے دوران دِکھائے گئے جذبے کو برقرار رکھتے ہوئے نوجوانوں میں نظم و ضبط، اعتماد اور منشیات کے نقصانات کے بارے میں مسلسل بیداری پیدا کریں۔لیفٹیننٹ گورنرنے کہا ،’’آئیے عہد کریں کہ اس مہم کو ہندوستان کی مؤثر ترین عوامی تحریکوں میں تبدیل کریں گے، ہر ضرورت مند تک پہنچیں گے، نئی زندگی شروع کرنے کے خواہشمند ہر نوجوان کا ہاتھ تھامیں گے، ہر منشیات فروش گروہ کا خاتمہ کریں گے اور ایک ایسا جموں و کشمیر تعمیر کریں گے جو منشیات سے پاک، دہشت گردی سے پاک اور اُمید، ترقی اور اعتماد سے بھرپور ہو۔‘‘اُنہوں نے سول اِنتظامیہ، جموں و کشمیر پولیس، قانون عملانے والے اداروں، سیکورٹی فورسز، رضاکاروں، سماجی و مذہبی تنظیموں، نوجوانوں، ناری شکتی اور دیگر تمام شراکت داروں کا مہم کی کامیابی میں تعاون پر شکریہ اَدا کیا۔
منوج سِنہا نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو اعزازات سے نوازا اور محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (ڈِی آئی پی آر) کی مرتب کردہ خصوصی کافی ٹیبل بُک کی رسم رونمائی اَنجام بھی دِی جس میں ’’نشہ مکت جموں و کشمیر مہم‘‘ کے اثرات کو اُجاگر کیا گیا ہے۔تقریب میں محکمہ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ کی تیار کردہ دستاویزی فلم، جموں و کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لنگویجز کا مختصر ڈرامہ، جموں و کشمیر پولیس اور اِنڈین ریڈ کراس سوسائٹی جموں و کشمیر چپٹرکی جانب سے خصوصی پیشکشیں بھی شامل تھیں۔جموں و کشمیر میں حالیہ آفاتِ سماوی میں جان بحق ہوئے شہریوں کی یاد میں دو منٹ کی خاموشی بھی اِختیار کی گئی۔ تقریب میں چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈ ڈاکٹر سیّد درخشاں اندرابی، چیف سیکرٹری اَتل ڈولو، ڈائریکٹر جنرل پولیس نلین پربھات، سپیشل ڈِی جی کوآرڈی نیشن ایس جے ایم گیلانی، پرنسپل سیکرٹری داخلہ چندرکر بھارتی، لیفٹیننٹ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر مندیپ کے بھنڈاری، کمشنر سیکرٹری سماجی بہبود سرمد حفیظ، ڈائریکٹر اطلاعات شریا سنگھل، صوبائی کمشنروں ، ضلع ترقیاتی کمشنروں ، عوامی نمائندے، تعلیمی اداروں کے سربراہان، سینئر اَفسران، سول سوسائٹی کے اراکین، سماجی تنظیموں کے نمائندے، ممتازشہری اور نوجوانوں نے ذاتی طور پر اور بذریعہ ورچیول موڈ شرکت کی۔










