لیفٹیننٹ گورنر نے لعل دید اَدبی ایوارڈ تقریب میں شرکت کی

لیفٹیننٹ گورنر نے لعل دید اَدبی ایوارڈ تقریب میں شرکت کی

ڈاکٹر وید یہی تمن کی لعل دید پر مبنی کتاب کی رسم رونمائی اَنجام دِی

سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہانے آج لعل دید لٹریچر ایوارڈز کی تقریب اور ڈاکٹر ویدیہی تمن کی نئی کتاب ’’لال دید: دی مدر آف کشمیر‘‘ کی رسم رونمائی کی تقریب میں شرکت کی۔اُنہوں نے ایوارڈ یافتگان پر زور دیا کہ وہ لعل دید، کبیر، حضرت شیخ نورالدین ولی ؒ(نند ریشی)، گورو نانک دیو اور تلسی داس کی تعلیمات اور حکمت کو نئی نسل تک پہنچائیں۔اُنہوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے اسلاف نے سائنس اور گہری روحانی اَقدار میں توازن قائم کرکے ہندوستان کی تعمیر کی اور ترقی کے لئے سائنسدان اور روحانیت کے پیشوا دونوں کی ضرورت ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت اس کی عظیم روحانی، سائنسی اور ثقافتی شناخت ہے جو صدیوں سے مشعل کی مانند منتقل ہوتی آرہی ہے۔ میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مشعل کو کبھی بجھنے نہ دیں۔ اَب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی عظیم تہذیبی وراثت کو لاکھوں نئے ذہنوں کے لئے مشعلِ راہ بنائیں اور جموں و کشمیر کے نوجوانوں کو خود انحصاریونین ٹیریٹری کی تعمیر کے لئے واضح مقصد دیا جائے۔‘‘اُنہوں نے کہا ،’’ قوم کی تعمیر ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ معمولی کامیابیوں پر اکتفا نہ کریں بلکہ بڑے خواب دیکھیں، محنت کریں اور اعلیٰ کارکردگی کو اَپنا نصب العین بنائیں۔ ہماری قوم کا سفر صبر، محنت اور اِجتماعی کوششوں سے ہی کامیاب ہوتا ہے۔‘‘
منوج سِنہا نے کہا کہ ہندوستان ظاہری ترقی اور باطنی روحانی ترقی دونوں کی قدر کرتا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ ہماری بنیادی روایات آج بھی زندہ ہیں اور یہی مشترکہ روحانی ورثہ ہمارے معاشرے کی رہنمائی کرتا ہے اور ہر ہندوستانی کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔اُنہوںنے کہا،’’میں چاہتا ہوں کہ مصنفین، مفکرین اور فنکار اس روحانی روایت کو محفوظ رکھیں اور اس کا اِشتراک کریں۔میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ہم ماضی میں جئیں بلکہ یہ ہے کہ ہم اَپنی تہذیبی وراثت کی سچائی، بھلائی اور وقارکا احترام کریں۔ ہم دُنیا کے لئے کھلے ذہن رکھ سکتے ہیں لیکن اَپنی جڑوں سے مضبوطی سے وابستہ بھی رہ سکتے ہیں، بالکل اس درخت کی طرح جس کی جڑیں مضبوط ہوں تو وہ آندھی میں بھی قائم رہتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’میں معاشرے سے دو اہم گزارشات کرتا ہوں۔ پہلی یہ کہ زندگی کی مصروفیات میں اپنی کھوئی ہوئی تہذیبی میراث کا کوئی نہ کوئی حصہ، خواہ وہ زبان ہو، گیت، پکوان، داستان یا روایت ہو،دوبارہ حاصل کریں اور اگلی نسل کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔ دوسرا، یاد رکھیں کہ ہماری سب سے بڑی طاقت ہماری ثقافتی شناخت ہے جو صدیوں سے جلتی مشعل کی طرح منتقل ہوتی رہی ہے ۔ میں نوجوانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس روشنی کو مدھم نہ ہونے دیں بلکہ اَپنی وراثت سے لاکھوں نئی مشعلیں روشن کریں۔‘‘اُنہوںنے مصنفین ، معلمین اور فنکاروں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج جن شخصیات کو اعزاز سے نوازا گیا ہے ،انہوں نے اپنی غیر معمولی خدمات کے ذریعے ملک کا روشن کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’یہ شخصیات معاشرے کی رہنما ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ حقیقی عظمت کا معیار وہ مثبت اثر ہے جو ہم آنے والی نسلوں پر چھوڑتے ہیں۔ تحریر، تدریس، فن یا عوامی خدمت کے ذریعے یہ سب ہمارے مشترکہ مستقبل کی تشکیل کر رہے ہیں۔ اس تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں ہمیں مصنفین اور اساتذہ کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ یہی لوگ خیالات تخلیق کرتے ہیں، علم کو محفوظ رکھتے ہیں اور نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ادب ہمیں انسان دوستی سکھاتا ہے جبکہ تعلیم ہمیں علم عطا کرتی ہے اور یہ دونوں مل کر ایسے ذمہ دار شہری تیار کرتے ہیں جو قوم کو آگے لے جا سکیں۔‘‘اُنہوں نے کہا کہ آج کی نوجوان نسل روایت اور جدیدیت کے سنگم پر کھڑی ہے۔ ان کے ہاتھوں میں جدید ٹیکنالوجی ہے، مگر ان کے ذہن ایک نئے مقصد اور سمت کے متلاشی ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’یہ ہمارے ادیبوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اپنی تہذیبی جڑوں سے جوڑیں اور انہیں مقصد کے ساتھ حدود سے باہر سوچنے کی ترغیب دیں۔ اسی طرح اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کونہ صرف ہنر بلکہ اقدار، خود اعتمادی اور مستقبل کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ بھی فراہم کریں۔‘‘اِس موقعہ پر منوج سِنہا نے دانشوروں، ادیبوں، اساتذہ، سائنسدانوں اور تخلیق کاروں سے پانچ اہم گزارشات بھی کیں۔ اُنہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں آزادانہ سوچ اور سچ کی تلاش کا جذبہ پیدا کریں، ہماری عظیم ثقافتی وراثت کو دستاویزی شکل دے کر دُنیا کے سامنے پیش کریں، کتابوں کے خیالات کو عملی زندگی کے مسائل کے حل میں استعمال کریں، اپنے تجربات نئی نسل تک منتقل کریں تاکہ وہ قوم کی خدمت کے لئے آگے آئیں اور موسمیاتی تبدیلی جیسے پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے مختلف شعبوں کے علم کو یکجا کریں۔اُنہوں نے کہا،’’قوم کی تعمیر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک مضبوط معیشت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرسکتی ہے لیکن اس کا تحفظ صرف ذمہ دار شہری ہی کر سکتے ہیں۔ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں۔ معمولی کامیابیوں پر اکتفا نہ کریں، بڑے خواب دیکھیں، سخت محنت کریں اور اعلیٰ کارکردگی کے لئے کوشاں رہیں۔ ہماری قوم کی ترقی صبر، محنت اور اجتماعی عزم سے ہی ممکن ہے۔‘‘
تقریب میں اُتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ تیرتھ سنگھ راوت، سابق ممبرپارلیمنٹ اور ایشیاٹک سوسائٹی آف ممبئی کے صدر ڈاکٹر ونئے سہسربدھے، ممتاز مصنفہ پروفیسر نیرجا مٹو، مصنفہ ڈاکٹر ویدیہی تمن سمیت متعدد ممتاز ادبی شخصیات نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر پدم شری ڈاکٹر ایس پی ورما، پرنسپل سیکرٹری کلچربرج موہن شرما، ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی، ضلع ترقیاتی کمشنر سری نگر اکشے لابرو اور دیگر سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔