سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے راجباغ سری نگر میں جدید اَپ گریڈ شدہ گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹری کا اِفتتاح کیا جوکہ جموںوکشمیر یوٹی میں ریشم صنعت کی بحالی اور جامع ترقی کی طرف ایک اہم قدم ہے۔گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹری سال 1937 ء میں قائم کی گئی تھی اور اُس وقت سے کام کر رہی ہے ۔ایک عرصے کے دوران زیادہ تر مشینری متروک ہو چکی تھی اور فیکٹری کو 2014 ء کے تباہ کن سیلاب میں بنیادی ڈھانچے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا۔بحالی کے منصوبے کے ایک حصے کے طور پر صدی پرانی گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹر راجباغ کو اَپ گریڈ اور جدید بنایا گیا ہے جس کی لاگت 23.54 کروڑ روپے آئی ہے۔ اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت جدید ترین اور بنائی مشینری والی نئی فیکٹری لگائی گئی ہے۔اِس موقعہ پر اَپنے خیالات کا اِظہار کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کشمیر یشم کو بین الاقوامی مارکیٹ کو فراہم کرنے کے لئے برانڈنگ شروع کرے گی ۔اُنہوں نے کہا کہ ہم جلد ہی راجباغ ریشم کو کشمیر ریشم کے نئے برانڈ کے طور پر شروع کریں گے۔اَنہوں نے مزید کہا کہ محکمہ سیاحت محکمہ صنعت وحرفت کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ہمارے سیاحوں کے لئے کشمیر ریشم مارکیٹ تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے۔تجدید شدہ گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹر ی صوبہ کشمیر کے تقریباً50,000ککون کاشت کاروں اور کسانوں کو ککون کی کھپت کی مارکیٹ فراہم کرے گی۔ککون مقدار بغیرکسی ویلیو ایڈیشن کے ملک کے دیگر حصوںمیں برآمد کی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹری راجباغ اَب سالانہ4,50,000میٹر ریشم کے تانے بانے پیدا کرنے کے قابل ہوجائے گی جو کہ بالواسطہ اور بلا واسطہ طور پر قابل عمل اقتصادی اور روزگار کے مواقع پیدا کرے گی۔مزید برآں سال 2020ء میں قائم ہونے والی گورنمنٹ سلک ویونگ فیکٹری صوبہ جموں کے ککون پالنے والوں کو براہ ِ راست مارکیٹ فراہم کر رہی ہے۔بعد میں لیفٹیننٹ گورنر نے وِلوویکر ( گاندربل ) ، پیپر ماشی ( زڈی بل)،کریول ( نور باغ ) اور اون ( بانڈی پورہ ) کے کاریگروں سے تبادلہ خیال کیا ۔جے ٹی ایف آر پی کی مشاورت کے ماہرین کی طرف سے ایک پرزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔اِس موقعہ پر لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان ، چیف سیکرٹری ڈاکٹر ارون کمار مہتا ، پرنسپ سیکرٹری صنعت و حرفت رنجن پرکاش ٹھاکر ، صوبائی کمشنر کشمیر پانڈورانگ کے پولے ، چیف ایگزیکٹیو آفیسر جے کے ای آر اے / جے ٹی ایف آر پی اور ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر محمداعجاز اسد موجو دتھے۔وی سی کے وِی آئی بی ڈاکٹر حنا شفیع بھٹ اور متعلقہ محکموں کے دیگر اعلیٰ اَفسران بھی موجود تھے۔










