کہا، اِس اَقدام سے ثقافتی ، تاریخی اور اِنسانی روابط مضبوط ہوں گے اور خطے کی متنوع علمی و لسانی روایات محفوظ رہیں گی
سری نگر//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے جموں یونیورسٹی کے’سینٹر فار ریجنل سٹیڈیز ، کلچر ڈائلیکٹس اینڈ ایموشنل اِنٹلی جنس‘ کے کشمیر چپٹر کا سنگ ِ بنیاد رکھا ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سینٹر علاقائی مطالعات، ثقافت، بولیوں اور جذباتی ذہانت کے ایک منفرد اور مستقبل پر نظر رکھنے والا سنگم ہے۔اُنہوں نے جموں و کشمیر کے شاندار تہذیبی ورثے کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اس اَقدام سے ثقافتی، تاریخی اور اِنسانی روابط مضبوط ہوں گے اور خطے کی متنوع علمی و لسانی روایات محفوظ رہیں گی۔اُنہوں نے کہا کہ کسی خطے کومحض جغرافیہ کے ذریعے نہیں سمجھا جاسکتا ۔اُنہوں نے کہا،’’زبانیں، لوک اَدب، ثقافتی معمولات، فنون، عقائد، روایات اور زِندگی کے تجربات مل کر کسی جگہ کی شناخت تشکیل دیتے ہیں۔ علاقائی علم اور جذباتی ذہانت کا اِمتزاج اِس نئے سینٹر کی روح بنے گااور معاشرے اورلوگوں کی گہری سمجھ بوجھ پیدا کرنے میں مدد دے گا۔‘‘منوج سِنہا نے کہا کہ اِس سینٹر کے وسیع مقاصد جن میں مخطوطات کا تحفظ، ڈیجیٹل آرکائیوز کی تشکیل، لسانی نقشہ سازی، نسلی و ثقافتی مطالعات، زیارت گاہوں اور سیاحت پر تحقیق، پہاڑی ماحولیات، مقامی کاروباری سرگرمیاں اور نوجوان سکالروں کے لئے فیلوشپس شامل ہیں، یونیورسٹی کی منفرد کاوشیں ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے اَقدامات مستقبل کی نسلوں کے لئے علم کا مشترکہ ذخیرہ تیار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے۔اُنہوں نے چار اہم عوامل کی بھی نشاندہی کی جو آج کے دور میں ایسے سینٹرکی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہیں۔ان چار عوامل میں اوّل عالمی روابط اور مقامی شناخت کے درمیان توازن قائم کرنے کی ضرورت، دوم معدوم ہوتی زبانوں اور علمی نظاموں کے تحفظ کی فوری ضرورت،سوم پیچیدہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے بین الشعبہ جاتی طریقوں کی اہمیت اور چہارم تعلیم کے میدان میں جذباتی فلاح و بہبود کا بڑھتا ہوا اعتراف، شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی معاشروں کو تبدیل کر رہی ہے تاہم ثقافتی جڑوں اور اِنسانی اَقدار کا تحفظ بھی اتنا ہی اہم ہے۔لیفٹیننٹ گورنر نے تیز ی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل اِنٹلی جنس کے دور میں یونیورسٹیوں کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جذباتی ذہانت اور تکنیکی صلاحیت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ اُنہوں نے اِس بات پر زور دیا کہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ اِداروں کو مسلسل سیکھنے کے عمل، حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت، اخلاقی شعور اور مختلف شعبوں کے مابین باہمی تعاون کی حوصلہ اَفزائی کرنی چاہیے۔اُنہوں نے یہ بھی کہا کہ جموں یونیورسٹی کے جموں کیمپس میں قائم مرکزی سینٹر اور اس کا کشمیر چپٹر تحقیق کے لئے ایک مثالی اِدارہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو علم کی تخلیق، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور انسان مرکوز ترقی میں اَپنا کردار اَدا کرنے کے ساتھ ساتھ جموں و کشمیر کی یونیورسٹیوں کی عالمی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔ سنگ بنیاد کی تقریب میں وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے، صوبائی کمشنر کشمیر انشل گرگ، ڈین ریسرچ سٹیڈیز ڈاکٹر نیلو روہمیترا،ڈائریکٹر سب آفس کشمیر ڈاکٹر گنیت سنگھ سوڈن، ڈین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ پروفیسر سنگیتا گپتااور جموں یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبران نے شرکت کی۔اِس موقعہ پر ایس ایس پی سری نگر ڈاکٹر جی وی سندیپ چکرورتی،ضلع ترقیاتی کمشنر بڈگام جِتن کشور،ریجنل ڈائریکٹر آئی جی این سی اے شروتی اوستھی، سول اور پولیس اِنتظامیہ کے سینئر اَفسران بھی موجود تھے۔










