سرینگر / /لنگیٹ اور اس کے مضافاتی علاقوں بشمول قاضی آباد ،پہرو چکلہ میں موسم سرما شروع ہونے سے پہلے ہی بجلی کٹوتی شروع کی گئی جبکہ پانی کی عدم دستیابی نے لوگوں کا جینا محال بنادیا گیا ہے ۔ موصولہ تفصیلات کے مطابق حلقہ انتخابات لنگیٹ ،علاقہ قاضی آباد اور ماور میں بجلی وپانی کی عدم دستیابی نے لوگوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ نالہ ماور اور گاسجی کے پانی کو علاقہ رفیع آباد اور ہندوارہ کو پانی فراہم کیا جارہا ہے لیکن اپنے وسائل کے باوجودنزدیکی علاقوں کو نظر انداز کیا جارہا ہے اور پورے لنگیٹ و اس کے مضافاتی علاقوں کا حق چھیناجاتا ہے جو کسی المیہ اور ناانصافی سے کم نہیں ہے جبکہ سب ڈسٹرکٹ اسپتال کرالہ گنڈ اور پرائمری ہیلتھ سنٹر قلم آباد عشہ پورہ میں طبی سہولیات کا فقدان اور ان کی حالت کافی ابتر ہے ۔ذرایع کے مطابق ان عوامی مسائل ومشکلات کو لیکر ایل سی ڈی آئی چیرمین منور خواجہ کی قیادت میں سیاسی کارکنوں اور عام شہریوں نے سوپر ناگہامہ کرالہ چوک میں ایک پُر امن احتجاج کیا ۔بتایاجاتا ہے کہ مظاہرین نے احتجاج مین مارکیٹ سے شروع ہوکر تحصیل آفس کرالہ گنڈ تک اختتام پذیر ہوا ۔اس دوران مظاہرین نے تحصیلدار قاضی آباد کو باضابطہ طور ایک میمورنڈم پیش کیا جب اسی طرح تحصیل ہیڈ کواٹر لنگیٹ اور قلم آباد میں بھی پُرامن احتجاج کیا گیا ۔اس دوران احتجاج میں شامل لوگ مطالبہ کررہے تھے کہ مرتب شدہ شیڈول کے تحت بجلی کی معقول فراہمی کیلئے رسیونگ اسٹیشن سفلپورہ کو پایہ تکمیل کو پہنچایا جائے،رسیونگ اسٹیشن گناپورہ کو اپرگریڈ کیا جائے اورولرامہ اور پالپورہ میں نیا رسیونگ اسٹیشن قائم کیا جائے ۔انہوں پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے فوری طور اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا اور اسپتالوں میں طبی سہولیات فراہم کرنے اور انکے انفاسٹریکچرونظام کو بہتر بنانے کی مانگ کی ۔










