kashmir files_omar abdullah

فلم’دی کشمیر فائلز‘ من گھڑت اورجھوٹ پرمبنی

فلم سے مہاجر پنڈتوںکی کشمیر واپسی سے متعلق کوششوںکونقصان:عمرعبداللہ

کولگام//نیشنل کانفرنس کے کارگزارصدر اور جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو فلم’دی کشمیر فائلز‘ کو ایک من گھڑت کہانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلم میں بہت سے جھوٹ پیش کیے گئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ1990 میں نیشنل کانفرنس کی حکومت نہیں تھی بلکہ وی پی سنگھ کے دور حکومت میں گورنر راج تھا۔ جے کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں ایک ریلی کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ پہلے تو یہ واضح نہیں تھا کہ یہ فلم دستاویزی تھی یا فلم۔اگر یہ دستاویزی فلم ہے تو یہ ٹھیک تھا، لیکن بنانے والوں نے خود دعویٰ کیا ہے کہ فلم حقیقت پر مبنی ہے۔ لیکن بقول عمرعبداللہ حقیقت یہ ہے کہ فلم’دی کشمیر فائلز‘ میں بہت سے جھوٹ کو پیش کیا گیا ہے اور سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ یہ غلط طریقے سے دکھایا گیا ہے کہ اُسوقت جموں وکشمیرمیںنیشنل کانفرنس کی حکومت تھی جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ جموں و کشمیر میں1990 میں گورنر راج تھا جب کشمیری پنڈت کشمیر چھوڑ گئے۔انہوںنے کہاکہ تب مرکز میں وی پی سنگھ کی سربراہی میں بی جے پی کی حمایت یافتہ حکومت تھی۔سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر میں صرف پنڈتوں نے ہی ہجرت نہیں کی اورنہ صرف پنڈت ہی مارے گئے ہیں بلکہ مسلمان اور سکھ بھی مارے گئے ہیں۔ عمر عبداللہ کاکہناتھاکہ کشمیر سے مسلمان اور سکھ بھی ہجرت کر گئے ہیں جو ابھی تک واپس نہیں آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ کشمیری پنڈت کشمیر سے ہجرت کر گئے لیکن نیشنل کانفرنس نے کشمیری پنڈتوںکی بحفاظت واپسی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کی اور جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن بقول موصوف کشمیری فائلزنامی فلم نے ایسے منصوبوں کو خراب کر دیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کے حالیہ دورہ جموں اور وزیر داخلہ امت شاہ کے مجوزہ جموں دورے کے بارے میں عمرعبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اس پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھ رہی ہے اور اس کے مطابق کام کرے گی۔